چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 336

روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت غلام دستگیر تھا اور مولوی کہلاتا تھا اُس نے مجھے کا ذب ٹھیرا کر دعا کے ذریعہ سے میری ہلاکت چاہی اور جھوٹے پر خدا کا عذاب مانگا اور اس بارہ میں ایک رسالہ بھی لکھا مگر اس رسالہ کو ابھی شائع کرنا نہ پایا تھا کہ وہ اپنی اُسی بددعا کے اثر سے ہلاک ہو گیا اور اُس کا تمام کارخانہ بگڑ گیا۔ ایسا ہی مسلمانوں میں سے ایک اور شخص اٹھا جس کا نام چراغ دین تھا اور (۳۲۱) جموں کا رہنے والا تھا اور اُس نے مجھے دجال ٹھہرایا اور میری ہلاکت کی خبر دی ۔ تب خدا نے اپنی وحی سے مجھے مطلع کیا کہ وہ طاعون سے ہلاک کیا جائے گا اور ایسا ہوا کہ ابھی اُس نے اپنے مباہلہ کا مضمون لکھنے کے لئے کا تب کو دیا تھا کہ اُسی رات طاعون میں مبتلا ہوکر اس جہان سے گذر گیا۔ ایسا ہی ایک شخص فقیر مرزا نام جو اپنے تئیں اولیاء اللہ میں سے سمجھتا تھا اور اُس کے بہت مرید تھے میرے مقابل پر کھڑا ہوا اور دعویٰ کیا کہ خدا نے مجھے عرش سے خبر دی ہے کہ آئندہ رمضان تک یه شخص یعنی یہ عاجز طاعون سے ہلاک ہو جائے گا۔ پس جب رمضان کا مہینہ آیا تو خود طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ اسی طرح ایک نہایت کینہ ور اور گندہ زبان شخص سعد اللہ نام لدھیانہ کا رہنے والا میری ایڈا کے لئے کمر بستہ ہوا اور کئی کتابیں نثر اور نظم میں گالیوں سے بھری ہوئی تالیف کر کے اور چھپوا کر میری تو ہین اور تکذیب کی غرض سے شائع کیں اور پھر اسی پر اکتفا نہ کر کے آخر کار مباہلہ کیا اور ہم دونوں فریق کو یعنی مجھے اور اپنے تئیں خدا کے سامنے پیش کر کے جھوٹے کی موت خدا سے چاہی آخر تھوڑے دن بعد ہی طاعون سے ہلاک ہوا۔ ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور اُن کا نام ونشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں