چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 11

روحانی خزائن جلد ۲۳ 11 چشمه معرف اُن کے دل کسی قدر درست ہو گئے ہوں اور اس تنبیہ سے کسی قدر انہوں نے سبق حاصل کر لیا ہو (۳) اور صلح پسندی کی خواہش ظاہر کی ہو مگر پیچھے سے معلوم ہوا کہ یہ خیال ہمارا سرا سر غلاط تھا اور خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کی نسبت اُن کی بد زبانی اب پہلے سے بھی بہت بڑھ کر ہے کیونکہ پہلے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کسی جلسہ مذاہب میں جو اپنی طرف سے انہوں نے قائم کیا ہو مسلمانوں کو مدعو کیا ہو اور پھر عین جلسہ کے وقت میں اُن کے بزرگ اور برگزیدہ پیغمبروں کو گالیاں دی ہوں ۔ پس یہ پہلا موقعہ ہے جس میں آریوں نے اپنے مکان پر ہمیں بلا کر اور اُس مجمع میں پانسو سے زیادہ مسلمان اکٹھے کر کے پھر گندی گالیوں کے ساتھ اُن کا دل دُکھایا۔ یہ وہ واقعہ ہے جس کو وہ کسی طرح پوشیدہ نہیں کر سکتے ۔ بار ہا یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ یہ لوگ تمام برگزیدہ نبیوں کے دشمن ہیں نہ حضرت آدم کو بد گوئی سے چھوڑیں نہ حضرت نوح کو نہ حضرت ابراہیم کو نہ حضرت یعقوب کو نہ حضرت موسیٰ کو نہ حضرت داؤد کو نہ حضرت عیسی کو نہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کہ اُن کی کتابوں سے ظاہر ہے مگر افسوس کہ یہ بے باکی اور بد گوئی کا تخم بدقسمت دیا نند اس ملک میں لایا اور دوسرے آریہ حسب مناسبت اس کے وارث ہوئے خاص کر لیکھر ام پشاوری جو محض نادان اور ابلہ تھا اُس کا خاص چیلا بنا۔ خیر وہ زمانہ تو گذر گیا مگر اس وقت مجھے بار بار افسوس آتا ہے کہ آریوں کے حال کے جلسہ میں کس قدر ہم نے نرمی اور ملائمت سے اُن کے بزرگوں کا ذکر کیا تھا جو سراسر صلح کاری سے بھرا ہوا تھا۔ اگر ان لوگوں میں ایک ذرہ بھی حیا ہوتی اور کچھ بھی شرافت ہوتی تو مسلمانوں کے روبرو جو چار سو کے قریب معزز اور شریف لوگ اُن کے مضمون کوسن رہے تھے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کو مسلمانوں کے ایک مجمع کثیر کے رو برواس قدر گندی گالیاں نہ دیتے کہ بجز نہایت خبیث آدمی کے کوئی شخص ایسے دل آزار اور پر تو ہین الفاظ زبان پر نہیں لا سکتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کا تکبر اور آریوں کی شوخی اور آریوں کی شرارت انتہا تک پہنچ گئی ہے اور اب وہ خدا کی اصلاح اور اس کے آسمانی