چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 10

روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت بار بار آواز بلند سے تمام مجمع کوسنائیں جو تین ہزار آدمی سے کم نہ تھا اور ایسے طور سے سمجھا سمجھا کر اپنے ناپاک اور فتنہ انگیز بیان کو ادا کیا کہ اگر پاک طبع مسلمانوں کو اپنی تہذیب کا خیال نہ ہوتا اور بموجب قرآنی تعلیم کے صبر کے پابند نہ رہتے اور اپنے غصہ کو تھام نہ لیتے تو بلا شبہ یہ بدنیت لوگ ایسی اشتعال رہی کے مرتکب ہوئے تھے کہ قریب تھا کہ وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا مگر ہماری جماعت پر ہزار آفرین ہے کہ انہوں نے بہت عمدہ نمونہ صبر اور برداشت کا دکھایا اور وہ کلمات آریوں کے جو گولی مارنے سے بدتر تھے اُن کو سن کر چپ کے چپ رہ گئے ۔ دراصل ہماری جماعت نے جو اُن کی دعوت جلسہ کو قبول کیا تو وہ اپنی سادگی اور نیک ظنی سے اُن کے دھوکہ میں آگئی۔ پیچھے سے پتہ لگ گیا کہ اُن کا اس جلسہ میں بلانے سے اور ہی ارادہ تھا۔ پر ان مہذب لوگوں کے صبر اور برداشت نے اس ہدا رادہ کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔ اگر آر یہ لوگ بغیر انعقاد جلسہ کے اپنے طور سے کوئی کتاب لکھتے اور یہ گالیاں اُس کتاب میں چھاپتے جیسا کہ سفلہ طبع لیکھر ام نے اسی کام میں اپنی عمر گزاری جب تک کہ اس کی زبان کی چھری نے اس دنیا سے اُس کو اُٹھا لیا تو یہ اور صورت تھی لیکن ان لوگوں نے تو اپنے جلسہ میں مہمان کے طور پر ہمیں مدعو کیا اور میری طرف چھ یا سات انکساری خط لکھے اور منافقانہ طور پر بجز و نیاز ظاہر کر کے یہ چاہا کہ ہم اس جلسہ میں شریک ہوں اور وعدہ کیا کہ کوئی بے تہذیبی نہیں ہوگی اور ہر ایک کے لئے مہذبانہ طرز کو شرط ٹھہرا دیا۔ اور مجھے ترغیب دی کہ جہاں تک ممکن ہو سکے آپ کی جماعت سننے کے لئے آوے۔ میں اُن کے خطوں کے پڑھنے سے جو سراسر نرمی سے لکھے گئے تھے بہت خوش ہوا اور دل میں خیال کیا کہ اگر چہ آریہ صاحبوں کی حالت جس قدر آج تک تجربہ میں آچکی ہے وہ یہی ہے کہ بجز اپنے وید اور اس کے چار رشیوں کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام کو نہایت سخت گالیاں دیتے اور طرح طرح کی توہین کرتے ہیں اور اس طرح پر کروڑہا مسلمانوں کے دل دُکھاتے ہیں لیکن کیا تعجب کہ اب ایک تازہ تنبیہ کی وجہ سے جو ان کے بعض افراد کی شوخیوں کی نسبت ضرور تا گورنمنٹ کی طرف سے عمل میں آئی ہے