چشمہٴ معرفت — Page 292
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۲ چشمه معرفت افسوس ! یہ لوگ نہیں سوچتے کہ اگر گھاس پات پر روح شبنم کی طرح پڑتی ہے تو اگر فرض کر لیں کہ وہ روح اس گھاس پات میں ایک کیڑے کی طرح پیدا ہو جاتی ہے لیکن پکانے کے بعد وہ ۲۹ کیٹر ا مر جاتا ہے اور پھر اگر وہ ساگ دو چار دن رکھا جائے اور سر جائے اور اس میں کیڑے پڑ جائیں تو وہ کیڑے کس شبنم سے آتے ہیں اور کیا اُس گندے ساگ کے کھانے سے جس میں ہزار ہا کیٹرے ہیں اتنے ہی بچے پیدا ہو جائیں گے۔ افسوس !!! دنیا میں خدا ایک دانہ سے صدہا دانے پیدا کر دیتا ہے پھر بھی دید کہتا ہے کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوتی اے نادان ! اگر یہ نیستی سے ہستی نہیں تو تم بھی ایسا کر کے دکھلاؤ۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآن میں لکھا ہے کہ عورتیں کھیتوں کی مانند صرف شہوت رانی کا ذریعہ ہیں اب دیکھنا چاہیے کہ یہ نا پاک طبع ہند و افترا میں کہاں تک بڑھتا جاتا ہے اور کیسے اپنی طرف سے الفاظ تراش کر قرآن شریف کی طرف منسوب کرتا ہے ایسے مفتری کے مقابل پر بجز اس کے ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ لعنة اللہ علی الکاذبین۔ قرآن شریف میں صرف یہ آیت ہے۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنى شِئْتُمْ یعنی تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا ہونے کے لئے ایک کھیتی ہیں ۔ پس تم اپنی کھیتی کی طرف جس طور سے چا ہو آؤ ۔ صرف کھیتی ہونے کا لحاظ رکھو یعنی اس طور سے صحبت نہ کرو جو اولاد کی مانع ہو۔ بعض آدمی اسلام کے اوائل زمانہ میں صحبت کے وقت انزال کرنے سے پر ہیز کرتے تھے اور باہر انزال کر دیتے تھے۔ اس آیت میں خدا نے اُن کو منع فرمایا اور عورتوں کا نام کھیتی رکھا یعنی ایسی زمین جس میں ہر قسم کا اناج اگتا ہے پس اس آیت میں ظاہر فرمایا کہ چونکہ عورت در حقیقت کھیتی کی مانند ہے جس سے اناج کی طرح اولاد پیدا ہوتی ہے سو یہ جائز نہیں کہ اُس کھیتی کو اولاد پیدا ہونے سے روکا جاوے۔ ہاں اگر عورت بیمار ہو اور یقین ہو کہ حمل ہونے سے اُس کی موت کا خطرہ ہوگا ایسا ہی صحت نیت سے کوئی اور مانع ہو تو یہ صورتیں مستثنیٰ ہیں ورنہ عند الشرع ہرگز جائز نہیں کہ اولا د ہونے سے روکا جائے ۔ البقرة : ۲۲۴