چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 291

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۱ چشمه معرفت کہ وید کو یہ بھی خبر نہیں کہ چاند اپنی روشنی سورج سے لیتا ہے اور اسی وجہ سے اُس نے برابر طور پر دونوں سورج اور چاند کو معبود ٹھہرایا ہے۔ پھر عجیب تر یہ بات ہے کہ معترض تو تعصب کی دیوانگی کی وجہ سے سورج چاند تک پہنچ گیا (۲۷۸) ہے جو آسمانی اجرام ہیں مگر اس کے وید نے تو زمین کی چیزوں میں بھی غلطی کھائی ہے اور وہ روح جس سے جاندار انسان زندہ ہوتے ہیں اُس کی کیفیت صحیح طور پر بیان نہیں کر سکا پس اس معترض پر تو یہ شعر صادق آتا ہے ۔ تو کار زمین را نکو ساختی ؟ که با آسمان نیز پرداختی کیا یہ وید کی فلاسفی درست ہے کہ روحیں مع اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں کے انادی اور غیر مخلوق ہیں اور وہی بار بار دنیا میں آتی ہیں اور کیا یہ بات عقل سلیم کے نزدیک بیچ ٹھہر سکتی ہے کہ روح انسان کے مرنے کے وقت اکاش میں چلی جاتی ہے اور پھر رات کے وقت کسی گھاس پات پر گرتی ہے اور وہ گھاس پات کوئی مردکھاتا ہے تو نطفہ کے ساتھ اندر چلی جاتی ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اس سے لازم آتا ہے کہ روح دوٹکڑے ہو کر گرتی ہو ایک ٹکڑا ایسی گھاس پر گرتا ہو جس کو مرد کھاتا ہو اور دوسرا ٹکڑا ایسی گھاس پات پر پڑتا ہو جس کو عورت کھاتی ہو کیونکہ پیدا ہونے والے بچہ میں روحانی اخلاق صرف مرد کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ عورت کی طرف سے بھی ہوتے ہیں۔ ماسوا اس کے وہ گھاس پات کچا تو نہیں کھایا جاتا بلکہ بخوبی آگ پر پکایا جاتا ہے اس صورت میں ظاہر ہے کہ جو کچھ شبنم کی طرح گھاس پات پر پڑا تھا وہ آگ سے جل جاتا ہوگا اور اگر کیڑا تھا تو وہ مرجاتا ہوگا۔ اور پھر ماسوا اس کے جو گوشت کھانے والی قومیں ہیں جو صرف مچھلی یا مثلا بکرایا بھیڈ کا گوشت کھاتے ہیں کیا وہ روح جو شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہے وہ بکرے یا بھیڑ کی کھال پر پڑتی ہے۔ پس جس وید کی یہ فلاسفی ہے جو قدم قدم پر ٹھوکر کھاتا ہے اُس کے ساتھ فخر کرنا ایک بھارے نادان کا کام ہے۔