چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 266

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶۶ چشمه معرفت آیا ہے اور اس وقت آیا ہے جبکہ دنیا خدا کے راہ کو بھول چکی تھی اور جن بیماروں کے لئے آیا اُن کو اس نے چنگا کر کے دکھلا دیا اور نہ توریت اور نہ انجیل وہ اصلاح کر سکی جو قرآن شریف نے کی۔ کیونکہ توریت کی تعلیم پر چلنے والے یعنی یہودی ہمیشہ بار بار بت پرستی میں پڑتے رہے چنانچہ تاریخ جاننے والے اس پر گواہ ہیں اور وہ کتا بیں کیا باعتبار علمی تعلیم کے اور کیا باعتبار عملی تعلیم کے سراسر ناقص تھیں اس لئے اُن پر چلنے والے بہت جلد گمراہی میں پھنس گئے ۔ انجیل پر ابھی تین برس بھی نہیں گذرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی (۲۵۵) یعنی حضرت عیسی خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال کو چھوڑ کر ذریعہ معافی گناہ یہ ٹھیرا دیا کہ اُن کے مصلوب ہونے اور خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لایا جائے پس کیا یہی کتابیں تھیں جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی بلکہ سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتا بیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک رڈی کی طرح ہو چکی تھیں اور بہت جھوٹ اُن میں ملائے گئے تھے جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔ پس جبکہ بائبل محرف مبدل ہو چکی تھی اور جو بائبل کے حامی تھے وہ بقول پادری فنڈل اور دوسرے محقق عیسائیوں کے اس زمانہ میں نہایت درجہ بد چلن ہو چکے تھے اور زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی تھی اور آسمان کے نیچے بجز معصیت اور مخلوق پرستی کے اور کوئی عمل نہ تھا اس طرف آریہ ورت بھی خراب ہو چکا تھا۔ اُس کے لئے پنڈت دیا نند کی گواہی ستیارتھ میں کافی ہے اور قرآن شریف نے خود اپنے آنے کی ضرورت پیش کی ہے کہ اس زمانہ میں ہر ایک قسم کی بد چلنی اور بداعتقادی اور بدکاری زمین کے رہنے والوں پر محیط ہو گئی تھی تو اب خدا کا خوف کر کے سوچنا چاہیے کہ کیا با وجود جمع ہونے اتنی ضرورتوں کے پھر بھی خدا نے نہ چاہا کہ اپنے تازہ اور زندہ کلام سے