چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 227

۲۱۹ روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۷ چشمه معرفت وہ معنی تم پر ایک حجت ہے کیونکہ اس زمانہ سے پہلے وہ معنی شائع ہو چکے ہیں اور یہ بات کہ کوشی کا رشی کی بیوی کے پیٹ میں خود اندر داخل ہو گیا یہ محض صرف اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے استعارہ ہے کہ بغیر اس کے کہ کو سیکا اپنی بیوی کے پاس جا تا خود بیوی کی منی سے بچہ پیدا ہو گیا تھا اور یہ خود تعجب کی جگہ نہیں کیونکہ جس حالت میں برسات کے ایام میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے خود بخودمٹی سے ہی پیدا ہو جاتے ہیں تو اگر خدا نے کوئی ایسا نمونہ نوع انسان میں بھی پیدا کیا تو کیوں اس کو انکار کی نظر سے دیکھا جائے اور کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ امر خدا کے قانون قدرت کے برخلاف ہے حالانکہ جس قانون قدرت پر زور دے کر اعتراض کیا جاتا ہے وہ تو بقول آریہ سماج کے اول دفعہ ہی ٹوٹ چکا ہے اور کروڑہا دفعہ خدا نے ابتدائے دنیا میں اس موجودہ | قانون کی پابندی چھوڑ دی ہے۔ پس ایسا قادر خدا جو ابتداء دنیا میں صرف مٹی سے انسان کو پیدا کر دیتا ہے پھر اگر وہ کسی انسان کو صرف عورت کے نطفہ سے ہی پیدا کرے تو یہ کون سی تعجب کی جگہ ہے۔ ظاہر ہے کہ نطفہ بہ نسبت مٹی کے بچہ پیدا ہونے کے لئے بہت قریب استعداد رکھتا ہے اور مٹی کی استعداد ایک استعداد بعیدہ ہے پس جب کہ تمہارا یہ اقرار ہے کہ جو چیز استعداد بعید رکھتی ہے اس سے انسان پیدا ہو سکتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ جو چیز بہ نسبت مٹی کے بچہ پیدا ہونے کے لئے استعداد قریب رکھتی ہے اس سے بچہ پیدا نہیں ہوسکتا اگر یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنَّ مَثَلَ عِنى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ أَدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ کے یعنی عیسی کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے کیونکہ خدا نے آدم کو مٹی سے بنا کر پھر کہا کہ تو زندہ ہو جا پس وہ زندہ ہو گیا۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا کہ اُس میں لکھا ہے کہ عیسی مسیح معہ گوشت پوست آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ ہماری طرف سے یہ جواب ہی کافی ہے کہ اول تو ا آل عمران : ۶۰