چشمہٴ معرفت — Page 196
IMA روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۶ چشمه معرفت وید نے اپنے قابل شرم اصولوں کے ساتھ نہ پر میشر کی عزت کا پاس کیا نہ آریوں کی آبرو کا خیال رکھا نیوگ کے عقیدہ کے ساتھ آریوں کی پگڑی اُتاری اور پرمیشر کی ساب قدرت اور سلب خالقیت کے عقیدہ کے ساتھ اُس اپنے پر میشر کو بے عزت کیا۔ پس جس وید نے اپنے پر میشر اور اپنے پیروی کرنے والوں کے ساتھ یہ سلوک کیا اُس سے دوسروں کو کیا توقع ہے؟ وہ تو درحقیقت اس شعر کا مصداق ہے ۔ تو بخویشتن چه کردی که بما کنی ظہیری حقا کہ واجب آمد ز تو احتراز کردن مضمون پڑھنے والے نے ایک اور نشانی الہامی کتاب کی یہ پیش کی کہ اس میں اختلاف نہ ہو ۔ ہم اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ واقعی یہ نشانی الہامی کتاب کے لئے ضروری ہے کیونکہ اگر بیان میں تناقض پایا جاوے اور قواعد مقررہ منطق کے رو سے در حقیقت وہ تناقض ہو تو ایسا بیان اس عالم الغیب کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا جس کی ذات غلطی اور نقص اور خطا سے پاک ہے کیونکہ تناقض سے لازم آتا ہے کہ دو متناقض باتوں میں سے ایک جھوٹی ہو یا غلط ہو اور اس دونوں قسم کی منقصت سے خدا تعالیٰ کی شان بلند و برتر ہے لیکن بعض نادان اپنی کو نہ اندیشی اور حماقت سے ایسے امور میں بھی تناقض سمجھ لیتے ہیں جن کو در حقیقت تناقض سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ زید مردہ ہے یعنی باعتبار روحانی حیات کے اور یہ کہنا کہ زید زندہ ہے یعنی باعتبار جسمانی حیات کے ان دونوں فقروں میں کچھ اختلاف اور تناقض نہیں کیونکہ اعتبار الگ الگ ہیں ۔ ایسا ہی یہ کہنا کہ زید جو خالد کا بیٹا ہے بہت شریر آدمی ہے اور یہ کہنا کہ زید جو ولید کا بیٹا ہے بہت نیک اور بھلا مانس آدمی ہے اس میں بھی کچھ تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ موضوع یعنی وہ لوگ جن کے حالات کا بیان ہے وہ الگ الگ ہیں اور ایسا ہی یہ کہنا کہ زید صبح کے وقت جنگل میں تھا اور یہ کہنا کہ زید شام کے وقت گھر میں تھا ان دونوں فقروں میں بھی کچھ تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ اوقات الگ الگ ہیں اور ایسا ہی یہ کہنا کہ زید بغداد میں کبھی نہیں گیا اور یہ کہنا کہ زید دمشق میں گیا تھا ان دونوں فقروں