چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 193

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۳ چشمه معرفت صریح فسق و فجور میں داخل ہوتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اکثر انسانوں کے لئے اول مرحلہ گندی زندگی کا ہے اور پھر جب سعید انسان اوائل عمر کے تند سیلاب سے باہر آجاتا ہے تو پھر وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتا ہے اور بچی تو بہ کر کے ناکردنی باتوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اپنے فطرت کے جامہ کو پاک کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ یہ عام طور پر انسانی زندگی کے سوانح ہیں جو نوع انسان کو طے کرنے پڑتے ہیں ۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ اگر یہی بات سچ ہے کہ تو بہ قبول نہیں ہوتی تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا ارادہ ہی نہیں کہ کسی کو نجات دے۔ پس جب کہ خدا نومیدی کا جواب دے چکا ہے اور کسی پلید جون میں ڈالنے کا اُس کا پختہ ارادہ ہے تو ایسی حالت میں جس کو یہ خواہش ہو کہ وہ گندی زندگی سے رستگار ہو کر اسی زندگی میں واصلان الہی میں سے ہو جاوے وہ کیوں کر بر خلاف خدا کے ارادہ کے اس خواہش کو پوری کر سکتا ہے؟ اور کیونکر وہ خدا کی راہ میں کوئی معاہدہ کر سکتا ہے جبکہ وہ جانتا (۱۸۵) ہے کہ میرے لئے خدا کے فضل کا دروازہ قطعاً بند ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اب بہر حال میرے لئے کوئی کتا یا بلا یا سور بننا ضروری ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی پیش کی کہ وہ کتاب اپنے آپ میں مکمل ہو یعنی اپنے بعد کسی دوسری کتاب کی اُس کو حاجت نہ ہو ۔ اب اس چالا کی کی طرف خیال کرو کہ یہ کس قسم کی نشانی لکھی ہے۔ چونکہ آریوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وید ایک ایسی کتاب ہے کہ اُس کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی اس لئے اُس نے اپنی غرض پوری کرنے کیلئے اس عقیدہ کو الہامی کتاب کی نشانیوں میں داخل کر دیا۔ تنقیح طلب تو یہ امر ہے کہ کیا در حقیقت ویدا ایک ایسی کامل مکمل کتاب ہے کہ اس کے بعد کسی دوسری کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں ۔ سو جب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو صریح معلوم ہوتا ہے کہ وید کو ایسی صفت سے موسوم کرنا سراسر اس پر تہمت ہے۔ وید کے ذریعہ سے جو کچھ آریہ ورت میں ظاہر ہوا ہے وہ یہی عناصر پر کتی اور مخلوق پرستی اور سورج اور چاند کی پوجا ہے یا نیوگ ہے اور کئی مرتبہ ہم لکھ چکے ہیں