چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 192

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۲ چشمه معرفت کمزوری در حقیقت ایک سچا اور واقعی زہر ہے؟ اور در حقیقت خدا کا نام تو اب یعنی توبہ قبول کرنے والا اسی انسانی کمزوری کے تقاضا سے ظہور پذیر ہے اور معاف کرنا ایک ایسا فعل ہے کہ وقت مناسب پر انسانی فطرت اُس کو قبول کرتی ہے اس لئے عقل سلیم کے نزدیک ایک سخت گیر انسان جو کبھی اپنے نوکروں کے قصور معاف نہیں کرتا قابل ملامت ہوتا ہے تو پھر پر میشر جس کا یہ دعوی ہے کہ وہ تمام اخلاق حسنہ کا جامع ہے اور ہر ایک خلق میں کامل اور سب سے بڑھ کر ہے کس قدر اس کی شان سے دور ہے کہ وہ اپنے گنہ گاروں کے مقابل پر معافی اور بخشش کا کبھی نام نہ لے اور ادنی ادنی باتوں میں سزا دینے کے لئے تیار ہو جائے اور نیز اس میں جو دوسخا کی صفت نہ ہو اور انسان صرف ایک مزدور کی طرح جس قدر مزدوری کرے اسی قدر بدلہ لے۔ ایسے پر میشر سے کہاں توقع ہو سکتی ہے کہ وہ کسی وقت احسان اور مروت سے پیش آوے اور کسی لغزش کے وقت قصور معاف فرمادے بلکہ انسانوں کے لئے اُس کی حکومت خطر ناک اور اپنی سخت بد قسمتی کا موجب ہے۔ یا در ہے کہ تو بہ اور مغفرت سے انکار کرنا در حقیقت انسانی ترقیات کے دروازہ کو بند کرنا ہے کیونکہ یہ بات تو ہر ایک کے نزدیک واضح اور بدیہیات سے ہے کہ انسان کامل بالذات نہیں بلکہ تکمیل کا محتاج ہے اور جیسا کہ وہ اپنی ظاہری حالت میں پیدا ہو کر آہستہ آہستہ اپنی معلومات وسیع کرتا ہے پہلے ہی عالم فاضل پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ پیدا ہوکر جب ہوش پکڑتا ہے تو اخلاقی حالت اُس کی نہایت گری ہوئی ہوتی ہے چنانچہ جب کوئی نو عمر بچوں کے حالات پر غور کرے تو صاف طور پر اس کو معلوم ہوگا کہ اکثر بچے اس بات پر حریص ہوتے ہیں کہ ادنی اونی نزاع کے وقت دوسرے بچہ کو ماریں اور اکثر اُن سے بات بات میں جھوٹ بولنے اور دوسرے بچوں کو گالیاں دینے کی خصلت مترشح ہوتی ہے اور بعض کو چوری اور چغل خوری اور حسد اور بخل کی بھی عادت ہوتی ہے اور پھر جب جوانی کی مستی جوش میں آتی ہے تو نفس امارہ اُن پر سوار ہو جاتا ہے اور اکثر ایسے نالائق اور نا گفتنی کام اُن سے ظہور میں آتے ہیں جو