چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 164

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶۴ چشمه معرفت کھوئے گئے ہیں اور یہ ایک ایسی حالت ہے جو موت سے مشابہ بلکہ ایک قسم کی موت ہے اور ی قطعی اور یقینی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ موت جو جسم کی موت کے ساتھ روح پر وارد ہوتی ہے وہ ایسی موت کے ساتھ مشابہ ہے جونیند کی حال میں روح پر وارد ہوتی ہے مگر دو موت اس موت کی نسبت بہت بھاری ہے کہ خلاصہ کلام یہ ہے کہ وید نے اس بارے میں بڑی غلطی کی ہے روحوں کو بھی خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ابدی قرار دیا ہے پس اس شخص سے زیادہ تر نادان کون ہے کہ جو ایسے ویدوں کو جو سرا سر غلطیوں سے بھرے ہوئے اور مخلوق کو خدا کے برابر ٹھہرا کر شرک کی تعلیم دیتے ہیں۔ سر چشمہ علوم ٹھہراتا ہے مگر قرآن شریف روحوں کو ازلی ابدی نہیں ٹھہراتا ہے اُن کو مخلوق بھی مانتا ہے اور فانی بھی جیسا کہ وہ روحوں کے مخلوق ہونے کے بارے میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ يعنی جب قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس کی تیاری کے بعد اُسی قالب میں سے ہم ایک نئی پیدائش کر دیتے ہیں یعنی روح اور ایسا ہی قرآن شریف میں ایک اور جگہ فرمایا ہے قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا عنى روح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے اور تم کو اس کا بہت تھوڑ اعلم ہے اور کئی محل میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جس مادہ سے روح پیدا ہوتی ہے اسی مادہ کے موافق روحانی اخلاق ہوتے ہیں جیسا کہ تمام درندوں چرندوں پرندوں اور حشرات الارض پر غور کر کے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ نطفہ کا مادہ ہوتا ہے اسی کے مناسب حال روحانی اخلاق اس جانور کے ہوتے ا حالت خواب میں روحانی نظارے عجیب و غریب ہوتے ہیں مثلاً کبھی انسان ایک بچہ کی طرح اپنے تیں دیکھتا ہے اور بیداری کا یہ واقعہ کہ وہ درحقیقت جوان ہے یا بوڑھا ہے اور اس کی اولاد ہے اور اس کی بیوی ہے بالکل فراموش کر دیتا ہے سو یہ تمام نظارے جو عالم خواب میں پیدا ہوتے ہیں صاف دلالت کرتے ہیں کہ روح خواب کی حالت میں اپنے حافظہ اور یادداشت اور اپنی بیداری کی صفات سے الگ ہو جاتی ہے اور یہی اس کی موت ہے۔ منہ حاشیہ: اس آیت کے معنی کئی طور کے مفسرین نے لکھے ہیں اور یہ معنی بھی ان میں شامل ہیں۔ منہ المؤمنون: ۱۵ ے بنی اسرائیل ۸۶