چشمہٴ معرفت — Page 163
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶۳ چشمه معرفت ایسا تغیر اس پر وارد ہو جاتا ہے کہ کچھ بھی اس کی دنیوی شعور اور ادراک کی حالت اس کے اندر ۱۵۵ باقی نہیں رہتی ۔ غرض موت اور خواب دونوں حالتوں میں خدا کا قبضہ اور تصرف روح پر ایسا ہو جاتا ہے کہ زندگی کی علامت جو خود اختیاری اور خود شناسی ہے بکلی جاتی رہتی ہے پھر خدا ایسی روح کو جس پر در حقیقت موت وارد کر دی ہے واپس جانے سے روک رکھتا ہے اور وہ روح جس پر اُس نے در حقیقت موت وارد نہیں کی اس کو پھر ایک مقرر وقت تک دنیا کی طرف واپس کر دیتا ہے۔ اس ہمارے کاروبار میں اُن لوگوں کے لئے نشان ہیں جو فکر اور سوچ کرنے والے ہیں۔ یہ ہے ترجمہ معہ شرح آیت مدوحہ بالا کا۔ اور یہ آیت موصوفہ بالا دلالت کر رہی ہے کہ جیسی جسم پر موت ہے روحوں پر بھی موت ہے لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ ابرار اور اختیار اور برگزیدوں کی روحیں چند روز کے بعد پھر زندہ کی جاتی ہیں۔ کوئی تین دن کے بعد کوئی ہفتہ کے بعد کوئی چالیس دن کے بعد ۔ اور یہ حیات ثانی نہایت آرام اور آسائش اور لذت کی اُن کو ملتی ہے۔ یہی حیات ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے نیک بندے اپنی پوری قوت اور پوری کوشش اور پورے صدق وصفا کے ساتھ خدا تعالی کی طرف جھکتے ہیں اور نفسانی تاریکیوں سے باہر آنے کے لئے پورا زور لگاتے ہیں اور خدا کی رضا جوئی کے لئے تلخ زندگی اختیار کرتے ہیں گو یا مر ہی جاتے ہیں۔ غرض جیسا کہ آیت موصوفہ بالا بیان فرما رہی ہے روح کو بھی موت ہے جیسا کہ جسم کو اگر چہ اس عالم کی نہایت مخفی کیفیتیں اس تاریک دنیا میں ظاہر نہیں ہوتیں لیکن بلاشبہ عالم رویا یعنی خواب کا عالم اس عالم کے لئے ایک نمونہ ہے اور جو موت اس عالم میں رُوح پر وارد ہوتی ہے اس موت کا نمونہ عالم خواب میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ معا آنکھ بند ہونے کے ساتھ ہی ہماری روح کی تمام صفات اُلٹ پلٹ ہو جاتی ہیں اور اس بیداری کا تمام سلسلہ فراموش ہو جاتا ہے اور تمام روحانی صفات اور تمام علوم جو ہماری روح میں تھے کا لعدم ہو جاتے ہیں اور حالت خواب میں وہ نظارے روح کے ہمارے پیش نظر آجاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اب وہ ہماری روح کچھ اور ہی ہے اور تمام صفات اس کے جو بیداری میں تھے (۱۵۶)