چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 157

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۷ چشمه معرفت کوسیکارشی کا قصہ وید میں موجود نہیں؟ ایسا ہی اور کئی قصے ہیں جور گوید کی شرتیوں میں اُن کی ۱۳۹ ) طرف اشارات پائے جاتے ہیں۔ در حقیقت یہ لوگ نادان دوست کے حکم میں ہیں کہ اپنی طرف سے الہامی کتاب کے لئے بیہودہ شرطیں لگا کر وید کے منہ پر سیاہی کا دھبہ لگاتے ہیں۔ خود تاریخ کو ایک علمی ذریعہ سمجھا گیا ہے پھر ایسے قصے کیوں قابل اعتراض ہیں جن کے ذکر سے نہ صرف تاریخی امور معلوم ہوتے ہیں بلکہ وہ قصے عمدہ عمدہ مثالوں اور نظیروں کو پیش کر کے نیکی اور صلاحیت کی طرف کھینچتے ہیں اور بدوں اور بدکاروں کا انجام ذکر کر کے بدی سے روکتے ہیں گویا وہ ایک بھاری فوج ہے جو دلوں کو فتح کرتی ہے اور کمزوری کو دور کرتی اور نیک کاموں کے لئے قوت دیتی ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے الہامی کتاب کی ایک یہ نشانی لکھی ہے کہ وہ کتاب تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہو ۔ اُس کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت وہ در پردہ وید کا سخت مخالف ہے کیونکہ ایسی باتیں کرتا ہے جو وید میں پائی نہیں جاتیں دنیوی امور کے بارے میں تو ذکر کرنا ہی فضول ہے کیونکہ آریوں میں سے جس قدر لوگوں نے حال کی نئی سائنس اور ہیئت کو پڑھا ہے وہ اپنے دل میں خوب جانتے ہوں گے کہ اس ترقی علوم کے زمانہ میں طبعی اور ہیئت کے علوم میں انواع و اقسام کے تجارب کے ذریعہ سے وہ اسرار کھلے ہیں جو نہ وید کو معلوم تھے اور نہ وید کے رشیوں کو بلکہ وید کو علوم دنیوی سے کچھ بھی علاقہ نہیں اور وہ اس وحشیانہ زمانہ کی کتاب ہے جبکہ ان علوم سے لوگ محض نا آشنا تھے یہاں تک کہ اُن کو یہ بھی توفیق نہ ہوئی کہ اپنے خالق اور مالک کو شناخت کر سکیں اور نہ صرف اس قدر بلکہ انسانی طہارت اور تہذیب سے بھی بالکل بے بہرہ تھے۔ چنانچہ نیوگ کا عقیدہ ظاہر کر رہا ہے کہ جیسا کہ جنگلوں کے درند چرند و غیرہ بغیر قید نکاح کے نر مادہ باہم مل جاتے ہیں یہی طریق اس زمانہ میں آریوں کا تھا بلکہ حیوانات سے بدتر کیونکہ حیوانات کو تو خدا نے عقل نہیں دی اور وہ معذور ہیں مگر یہ لوگ باوجود عقل رکھنے کے حیوانات سے بھی بڑھ گئے ۔ ان کے مذہب