چشمہٴ معرفت — Page 142
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴۲ چشمه معرفت ۱۳۴ ہی وہ شریف آدمی آگ بگولا ہو گیا اور غصہ میں آکر اُن کتابوں کو اپنے ہاتھ سے ایک رڈی اور ناپاک چیز کی طرح پھینک دیا اور کہا کہ میں ایسے مذہب پر لعنت بھیجتا ہوں جس میں اس قدرنا پاکی اور بے حیائی کی تعلیم ہے اور اُس اپنے دوست کا شکر کیا جس نے اُس کو اس گند سے نکالا۔ اب ہم مضمون پڑھنے والے کی اُن نشانیوں کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کرتے ہیں جو اُس نے اپنے عقیدہ کے موافق الہامی کتاب کے لئے مقرر کی ہیں۔ سو اُن میں سے پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ کتاب ابتدائے آفرینش سے ہو ۔ اس نشانی کے ذکر کرنے سے اس شخص کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف ابتدائے زمانہ میں نہیں آیا اس لئے وہ خدا کی کتاب نہیں لیکن اس کی اس تقریر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ گویا وید کا پر میشر ابتدائے زمانہ کے بعد ہمیشہ کے لئے اپنا الہام نازل کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے اور الہام کرنے کی قوت اُس کی ذات میں سے مفقود ہو جاتی ہے یہاں تک کہ گو کیسے ہی مصالح جدیدہ الہام کے مقتضی ہوں اور کیسے ہی مفاسد زمین میں پھیل جائیں اور کیسے ہی کسی پہلی کتاب میں تغیرات اور تحریفات دخل کر جائیں اور کیسے ہی دور و دراز ملکوں کے رہنے والے اس پہلی کتاب سے بے خبر ہوں مگر پر میشر قسم کھالیتا ہے کہ وہ پہلی کتاب کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں کرے گا اور صاف ظاہر ہے کہ یہ طریق اور یہ عادت خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو جسمانی طور پر انسان کے جسمانی معالجات کے لئے پایا جاتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جسمانی ضرورتوں کے موافق ہمیشہ تازہ بتازہ سامان ہمیں دیئے جاتے ہیں اور ہمیں صرف اُن قصوں کے ذریعہ سے خوش نہیں کیا جاتا کہ کسی پہلے زمانہ میں ایسے پھل تھے جو لوگ کھاتے تھے اور ایسا اناج تھا جو لوگ استعمال کرتے تھے اور ایسی دوائیں تھیں جن کے ذریعہ سے علاج ہوتا تھا بلکہ وہ سب چیزیں اب بھی ہمارے لئے پیدا تھا بلکہ کی جاتی ہیں جیسا کہ پہلے پیدا کی جاتی تھیں تو پھر روحانی قانونِ قدرت کیوں بدل گیا۔ کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ پہلے خدا تعالیٰ بولنے پر قادر تھا اور اب قادر نہیں اور پہلے اس کو الہام دینے کی طاقت تھی مگر اب وہ طاقت باقی نہیں رہی اور کیا سچ نہیں کہ خدا پہلے زمانہ میں جیسا کہ