چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 133

۱۲۵ ۱۳۳ روحانی خزائن جلد ۲۳ گورنمنٹ کو آخر کار ایک قانون جاری کرنا پڑا۔ دوسرا حصہ اُن حملوں کے رد میں جو آریہ مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہیں آگے مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ تو بہ کا مسئلہ خلاف قانون قدرت ہے اس سے مطلب اُس کا قرآن شریف پر حملہ کرنا ہے۔ گویا قرآن شریف میں خلاف قانون قدرت کے تعلیم پائی جاتی ہے۔ اگر چہ ہم تو بہ کے بارے میں اس سے پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں مگر پھر مختصر طور پر بیان کرنا مضائقہ نہیں ۔ یادر ہے کہ ہمیں بار بار افسوس آتا ہے کہ تعصب کی وجہ سے ان لوگوں کی عقل کیوں ماری گئی ہے۔ واضح ہو کہ تو بہ لغت عرب میں رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام بھی تو اب ہے یعنی بہت رجوع کرنے والا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب انسان گناہوں سے دستبردار ہو کر صدق دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے بڑھ کر اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہ امر سراسر قانون قدرت کے مطابق ہے کیونکہ جب کہ خدا تعالیٰ نے نوع انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ جب ایک انسان سچے دل سے دوسرے انسان کی طرف رجوع کرتا ہے تو اُس کا دل بھی اُس کے لئے نرم ہو جاتا ہے تو پھر عقل کیونکر اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بندہ تو سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے مگر خدا اس کی طرف رجوع نہ کرے بلکہ خدا جس کی ذات نہایت کریم ورحیم واقع ہوئی ہے وہ بندہ سے بہت زیادہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اسی لئے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا نام جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے