چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 132

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۲ چشمه معرفت ۱۲۴ ہلاک کروں آخر وہ بھی تو دراصل انسان ہے کیا یہ پیار ہے؟ ایسا ہی شہد کی مکھیوں کے ہزاروں بچے تلف کر کے شہد نکالتے ہیں کیا یہ پیار ہے؟ گائیوں کا دودھ جو اُن کے بچوں کا حق ہے آپ پی لیتے ہیں کیا یہ پیار ہے؟ ہر ایک قطرہ پانی میں ہزاروں کیڑے ہوتے ہیں جو دراصل بقول اُن کے انسان ہیں وہ پانی پی کر اُن کیٹروں کو ہلاک کرتے ہیں کیا یہ پیار ہے اور بیچ تو یہ ہے کہ وید نے انسانوں کی ہمدردی بھی نہیں سکھلائی ۔ سکھوں کے عہد میں ہزاروں غریب مسلمان صرف گائے کے ذبح کا شبہ ہونے کی وجہ سے قتل کئے گئے تھے۔ ایسا ہی صد ہا ہندو لوگ ہزار ہا من گیہوں وغیرہ اناج کھاتوں میں دفن رکھتے ہیں اور انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کوئی سخت قحط پڑے اور خلق اللہ پر تباہی آوے تب وہ غلہ فروخت کر کے مالدار ہو جائیں پس جس وید نے یہ نہیں سکھلایا کہ انسانوں سے پیار کیا جاوے اور اُن کا بُرا نہ مانگا جاوے اس پر کیونکر امید رکھیں؟ کہ اُس نے یہ سکھلایا ہوگا کہ دوسرے جانوروں سے پیار کرو مگر جیسا کہ قرآن شریف کی رو سے یہ منع ہے کہ کسی قوم سے سودمت لو خواہ وہ مسلمان ہیں یا ہندو یا عیسائی۔ ایسا ہی قرآن شریف نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ اناج کو اپنے طمع اور غرض نفسانی سے لوگوں سے روک رکھیں اور اس کے فروخت کے لئے کسی قحط کے منتظر رہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ نجس اور خبیث لوگوں کا کام ہے مگر افسوس ! کہ ایسے لوگ آریوں میں لاکھوں پائے جاتے ہیں۔ اگر وید میں ممانعت ہوتی تو اس کثرت سے یہ بُرے کام ہندوؤں میں ہر گز نہ ہوتے ۔ وہ شخص سخت چنڈال اور پلید ہوتا ہے جو اپنے نفس کی بھلائی کے لئے تمام دنیا کا بدخواہ ہو اور اگر اس کے برخلاف وید کی کوئی تعلیم ہے تو ہمیں دکھلاؤ بلکہ میں نے سنا ہے کہ بعض اس قسم کے ہندو جن کے پاس بہت غلہ ہے روغنی روٹیاں پکا کر باہر لے جاتے ہیں اور اُن پر پاخانہ پھرتے ہیں تا اس کام سے پر میشر ناراض ہو جاوے اور قحط زیادہ پڑے۔ ایسا ہی قرضہ کے وقت سود پر سود چڑھا کر انجام کا ر غریب زمینداروں کی زمینیں اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے