چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 83

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۸۳ چشمه معرفت مشرق سے مغرب کو اور مغرب سے مشرقی بلا د کو آتی ہے اور اس پیشگوئی کے ساتھ قرآن شریف (۷۵) میں ایک اور بھی پیشگوئی ہے جو جسمانی اجتماع کے بعد روحانی اجتماع پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَبِذِيَّمُوجُ فِي بَعْضٍ وَ نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْتُهُمْ جَمْعًا لے یعنی ان آخری دنوں میں جو یا جوج ماجوج کا زمانہ ہوگا دنیا کے لوگ مذہبی جھگڑوں اور لڑائیوں میں مشغول ہو جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم پر مذہبی رنگ میں ایسے حملے کرے گی جیسے ایک موج دریا دوسری موج پر پڑتی ہے اور دوسری لڑائیاں بھی ہوں گی اور اس طرح پر دنیا میں حاشیه: یہ آیت سورۃ کہف میں یا جوج ماجوج کے ذکر میں ہے۔ کتب سابقہ میں جو بنی اسرائیلی نبیوں پر نازل ہوئی تھیں صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے بلکہ نام لے کر بیان کیا ہے کہ یا جوج ماجوج سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں اور یہ بیان ایسی صراحت سے ان کتابوں میں موجود ہے کہ کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ کہنا کہ وہ کتا بیں محرف مبدل ہیں۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے کیونکہ اللہ جل شانہ مومنوں کو قرآن شریف میں فرماتا ہے فَتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ " یعنی فلاں فلاں باتیں اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم بے خبر ہو ۔ پس ظاہر ہے کہ اگر ہر ایک بات میں پہلی کتابوں کی گواہی ناجائز ہوتی تو خدا تعالیٰ کیوں مومنوں کو فر ما تا کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہل کتاب سے پوچھ لو بلکہ اگر نبیوں کی کتابوں سے کچھ فائدہ اٹھانا حرام ہے تو اس صورت میں یہ بھی نا جائز ہوگا کہ ان کتابوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بطور استدلال پیشگوئیاں پیش کریں حالانکہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد ان کے تابعین بھی ان پیشگوئیوں کو بطور حجت پیش کرتے رہے ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کتب سابقہ کے بیان تین قسم کے ہیں (۱) ایک تو وہ باتیں ہیں جو واجب التصدیق ہیں جیسا کہ خدا کی توحید اور ملائک کا ذکر اور بہشت و دوزخ کے وجود کی نسبت بیان ۔ اگر ان کا انکار کریں تو ایمان جائے۔ (۲) دوسری وہ باتیں ہیں جو رد کرنے کے لائق ہیں جیسا کہ وہ تمام امور جو قرآن شریف کے مخالف ہیں الكهف :١٠٠ النحل : ۴۴