چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 82

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۸۲ چشمه معرف ۷۴ سفر کا مدار تمام اونٹنیوں پر ہے اس لئے اونٹوں کا ہیذکر کیا یہ تو ہر ایک شخص جانتا ہے کہ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک حاجیوں کے پہنچانے کے لئے تیرہ سو برس سے صرف اونٹنیوں کی سواری چلی آتی ہے پس اس جگہ خدا تعالیٰ یہ خبر دیتا ہے کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ وہ سواری موقوف کر دی جائے گی اور بجائے اُس کے ایک نئی سواری ہوگی جو آرام اور جلدی کی ہوگی۔ اور یہ بات اس سے نکلتی ہے کہ جو بدل اختیار کیا جاتا ہے وہ مبدل منہ سے بہتر ہوتا ہے۔ دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ جبکہ بچھڑے ہوئے لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے اور اس قدر با ہمی ملاقاتوں کے لئے سہولتیں میسر آجائیں گی اور اس کثرت سے ان کی ملاقاتیں ہوں گی کہ گویا مختلف ملکوں کے لوگ ایک ہی ملک کے باشندے ہیں سو یہ پیشگوئی ہمارے اس زمانہ میں پوری ہوگئی جس سے ایک عالمگیر انقلاب ظہور میں آیا گویا دنیا بدل گئی کیونکہ ڈخانی جہازوں اور ریلیوں کے ذریعہ سے وہ روکیں جو پہاڑوں کی مانند حائل تھیں سب اُٹھ گئیں اور ایک دنیا بقیہ حاشیہ: اس کا نتیجہ ہے اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اس زمانہ میں بعض آدمی بعض سے ملائے جائیں گے اور ظاہری تفرقہ قوموں کا دور ہو جائے گا اور چونکہ صحیح مسلم میں کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ اونٹنیوں کے بیکار ہونے کا مسیح موعود کا زمانہ ہے اس لئے قرآن شریف کی آیت وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتْ جو حديث يترك القلاص کے ہم معنے ہے بدیہی طور پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعہ ریل جاری ہونے کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظہور میں آئے گا۔ اسی لئے میں نے اِذَا الْعِشَارُ عُظلت کے یہی معنے کہتے ہیں کہ وہ مسیح موعود کا زمانہ ہے کیونکہ حدیث نے اس آیت کی شرح کر دی ہے اور چونکہ ریل کے جاری ہونے پر ایک مدت گذر چکی ہے جو مسیح موعود کی علامت ہے اس لئے ایک مومن کو مانا پڑتا ہے کہ مسیح موعود ظاہر ہو چکا ہے اور جب کہ ایک واقعہ نے ممدوحہ بالا آیت اور حدیث کے معنے کھول دیئے ہیں تو اب ظاہر شدہ معنوں کو قبول نہ کرنا صریح الحادا اور بے ایمانی ہے۔ سوچ کر دیکھو کہ جب مکہ اور مدینہ میں اونٹ چھوڑ کر ریل کی سواری شروع ہو جائے گی تو کیا وہ روز اس آیت اور حدیث کے مصداق نہ ہو گا ؟ ضرور ہوگا اور تمام دل اس دن بول اٹھیں گے کہ آج وہ پیشگوئی مکہ اور مدینہ کی راہ میں کھلے کھلے طور پر پوری ہو گئی ۔ ہائے افسوس ان نام کے مسلمانوں پر کہ جو نہیں چاہتے کہ (میرے بغض کی وجہ سے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشنگوئی پوری ہو۔ منہ التكوير : ۵