براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 35

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵ نصرة الحق ایمان لانا اور اُن کو خدا سمجھنا انسان کے تمام گناہ معاف ہو جانے کا موجب ہے۔ کیا ایسے خیال سے توقع ہوسکتی ہے کہ انسان میں کچی نفرت گناہ سے پیدا کرے۔ صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک ضد اپنی ضد سے دور ہوتی ہے۔ سردی کو گرمی دور کرتی ہے اور تاریکی کے ازالہ کا علاج روشنی ہے۔ پھر یہ علاج کس قسم کا ہے کہ زید کے مصلوب ہونے سے بکر گناہ سے پاک ہو جائے بلکہ یہ انسانی غلطیاں ہیں کہ جو غفلت اور دنیا پرستی کے زمانہ میں دلوں میں سما جاتی ہیں اور جن پست خیالات کی وجہ سے دنیا میں بت پرستی نے رواج پایا ہے فی الحقیقت ایسے ہی نفسانی اغراض کے سبب سے یہ مذہب صلیب اور کفارہ کا عیسائیوں میں رواج پا گیا ہے۔ اصل امر یہ ہے کہ انسان کا نفس کچھ ایسا واقع ہے کہ ایسے طریق کو زیادہ پسند کر لیتا ہے جس میں کوئی محنت اور مشقت نہیں مگر کچی پاکیزگی بہت سے دکھ اور مجاہدات کو چاہتی ہے اور وہ پاک زندگی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک انسان موت کا پیالہ نہ پی لے۔ پس جیسا کہ انسان کی عادت ہے کہ وہ تنگ اور مشکل راہوں سے پر ہیز کرتا ہے اور سہل اور آسان طریق ڈھونڈتا ہے اسی طرح ان لوگوں کو یہ طریق صلیب جو صرف زبان کا اقرار ہے اور روح پر کسی مشقت (۲۲) کا اثر نہیں بہت پسند آ گیا ہے جس کی وجہ سے خدائے تعالی کی محبت ٹھنڈی ہوگئی ہے اور نہیں چاہتے کہ گناہوں سے نفرت کر کے پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کریں۔ در حقیقت صلیبی اعتقاد ایک ایسا عقیدہ ہے جو اُن لوگوں کو خوش کر دیتا ہے جو کچی پاکیزگی حاصل کرنا نہیں چاہتے اور کسی ایسے نسخہ کی تلاش میں رہتے ہیں کہ گندی زندگی بھی موجود ہو اور گناہ بھی معاف ہو جا ئیں لہذا وہ با وجود بہت سی آلودگیوں کے خیال کر لیتے ہیں کہ فقط خونِ مسیح پر ایمان لانے سے گناہ سے پاک ہو گئے ۔ مگر یہ پاک ہونا درحقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک پھوڑا جو پیپ سے بھرا ہوا ہو اور باہر سے چمکتا ہوا نظر آئے اور اگر غور کرنے والی طبیعتیں ہوں