براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 452
احمدبیگ کے متعلق پیشگوئی کے دو حصے تھے اور دونوں شرطی تھے ۱۷۹ تا ۱۸۰ پیشگوئیوں میں ابہام ۲۴۸، ۲۴۹ ہر ایک نبی کی کوئی نہ کوئی پیشگوئی کافروں پر مشتبہ رہی ہے ۲۰۵ پیشگوئیوں میں اکثر وقت کی تعیین نہیں ہوتی ۲۵۱ مخالفین مکہ نے متٰی ہذا الوعد کہہ کر وقت کی تعیین چاہی تھی مگر ان کو وقت نہیں بتلایا گیا ۱۷۸ زلزلہ کی پیشگوئی کے وقت کی تعیین ۲۵۹ پیشگوئی کی حقیقی تفسیر کا وقت وہ ہوتا ہے جب وہ پیشگوئی ظاہر ہو ۹۳ح ت تبلیغ تبلیغ الٰہی احکام کے متعلق ہوتی ہے نہ کہ پیشگوئیوں کے متعلق ۲۷۹ انبیاء کو حق تبلیغ ادا کرنے درد ۲۶۹ح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں سامان تبلیغ و اشاعت حق پہلے کسی نبی کے زمانہ میں میسر نہ تھے ۱۹۹ تزکیہ نفس تزکیہ نفس کسی انسانی منصوبہ سے نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے زندہ خدا کی زندہ تجلیات قولی و فعلی ہی واحد علاج ہے ۳۳ نفسانی غلاظتیں اللہ تعالیٰ سے سچے اور پاک تعلق کے ذریعہ دور ہو تی ہیں ۳۲ کامل طور پر پاک ہونے کے لئے صرف معرفت ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ پردرد دعاؤں کا سلسلہ جاری رہنا بھی ضروری ہے ۳۳ تصویر (فوٹو) میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ کوئی میری تصویر کھینچے اور اس کو بت پرستوں کی طرح اپنے پاس رکھے یا شائع کرے ۳۶۵ میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میری جماعت کے لوگ بغیر ایسی ضرورت کے جو کہ مضطر کرتی ہے وہ میرے فوٹو کو عام طور پر شائع کرنا اپنا کسب اور پیشہ بنا لیں ۳۶۷ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ تصویر کی حرمت قطعی ہے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ فرقہء جن حضرت سلیمان کے لئے تصویریں بناتے تھے ۳۶۶ فوٹو کے ذریعہ سے بہت سے علمی فوائد ظہور میں آتے ہیں ۳۶۶ تعبیر رؤیا آنحضرت صلعم کی تین رؤیا اور ان کی تعبیر ۳۴۷ معبرین نے لکھا ہے کہ جو شخص خواب میں یہ دیکھے کہ وہ زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلا گیا ہے اس کی تعبیر یہ ہو گی کہ وہ اپنی طبعی موت سے مرے گا ۳۷۱ تمام معبرین کے اتفاق سے تعبیر کی رو سے زرد رنگ کی چادر سے مراد بیماری ہوتی ہے ۳۷۳ مجھے رؤیا میں اپنی نسبت یا کسی دوسرے کی نسبت جب کبھی معلوم ہوا ہے کہ زرد چادر جسم پر ہے تو اس سے بیمار ہونا ہی ظہور میں آیا ہے ۳۷۴ تعلق باللہ انسان کی روح کو خدا تعالیٰ سے ایک تعلق ازلی ہے ۲۰۰ ہیبت اور عظمت الٰہی سے متاثر ہو کر ہمیشہ کے لئے لغوباتوں اور لغو کاموں کو چھوڑ دینا تعلق باللہ کہلاتا ہے ۲۰۲ مجرد خشوع اور گریہ و زاری کہ جو بغیر ترک لغویات ہو قرب الٰہی اور تعلق باللہ کی علامت نہیں ۱۹۴ لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرنا خدا تعالیٰ سے تعلق کا باعث ہے ۲۰۲