براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 400
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ویسا ہی حضرت مسیح کا بھی جسم دیکھا۔ پس اگر انسان ناحق باطل پرستی پر ضد نہ کرے تو اس کے لئے اس بات کا سمجھنا بہت ہی سہل ہے کہ حضرت عیسیٰ جس جسم کے ساتھ اٹھائے گئے وہ عصری جسم نہ تھا بلکہ وہ جسم تھا جو مرنے کے بعد ہر ایک مومن کو ملاتا ہے۔ کیونکہ عصری جسم کے لئے خود اللہ تعالی منع فرماتا ہے کہ وہ آسمان پر جاوے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاء وَأَمْوَانا۔ ترجمہ۔ یعنی کیا ہم نے زمین کو ایسے طور سے نہیں بنایا کہ وہ انسانوں کے اجسام کو زندہ اور مردہ ہونے کی حالت میں اپنی طرف کھینچ رہی ہے کسی جسم کو نہیں چھوڑتی کہ وہ آسمان پر جاوے۔ اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا یعنی جب کافروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کی کہ یہ معجزہ دکھلا دیں کہ مع جسم عصری آسمان پر چڑھ جائیں تو ان کو یہ جواب ملا کہ قُل سُبحان رتي الخ ۔ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس بات سے پاک ہے کہ اپنے عہد اور وعدہ کے برخلاف کرے۔ وہ پہلے کہہ چکا ہے کہ کوئی جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا۔ جیسا کہ فرمایا چ الَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا اور جیسا کہ فرمایا فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ اور جیسا کہ فرمایا وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعُ إِلى حِيْنِ ۔ پس یہ عرب کے کفار کی شرارت تھی کہ وہ لوگ بر خلاف وعدہ و عہد الہی معجزہ مانگتے تھے اور خوب جانتے تھے کہ ایسا معجزہ دکھایا نہیں جائے گا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے اس قول کے برخلاف ہے جو گذر چکا ہے ۔ اور خدا تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اپنے عہد کو توڑے ۔ اور پھر فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ میں تو ایک بشر ہوں اور خدا تعالیٰ فرما چکا ہے کہ بشر کے لئے ممتنع ہے کہ اس کا جسم ۲۲۵ خاکی آسمان پر جائے ہاں پاک لوگ دوسرے جسم کے ساتھ آسمان پر جا سکتے ہیں جیسا کہ تمام نبیوں اور رسولوں اور مومنوں کی روحیں وفات کے بعد آسمان پر جاتی ہیں اور انہیں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مُفَتَحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ یعنی مومنوں کے لئے آسمان کے المرسلت : ۲۶-۲۷ بنی اسرآئیل: ۹۴ ه الاعراف: ۲۵ ص ۵۱ المرسلت : ٢٦، ٢٧ الاعراف : ٢٦