براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 391

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۹۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ منجملہ ان کے یہ آیت ہے۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم محض ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں ۔ پس کیا اگر وہ فوت ہو گئے یاقتل کئے گئے تو تم دین اسلام کو چھوڑ دو گئے ۔ اور جیسا کہ ابھی میں بیان کر چکا ہوں یہ میچ نہیں ہے کہ خلت کا لفظ اور تمام نبیوں کے لئے تو وفات دینے کے لئے آتا ہے مگر حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے ان معنوں پر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو مع جسم عنصری آسمان پر اٹھا لیا۔ یہ دعوی سراسر بے دلیل ہے ۔ اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی گئی بلکہ جہاں جہاں قرآن شریف میں خلت کا لفظ آیا ہے وفات کے معنوں پر ہی آیا ہے اور کوئی شخص قرآن شریف سے ایک بھی ایسی نظیر پیش نہیں کر سکتا کہ ان معنوں پر آیا ہو کہ کوئی شخص مع جسم عصری آسمان پر اٹھایا گیا۔ ماسوا اس کے جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں خدا تعالیٰ نے انہیں آیات میں خلت کے لفظ کی خود تشریح فرمادی ہے اور خلت کے مفہوم کو (۲۱۶) صرف موت اور قتل میں محدود کر دیا ہے۔ یہی آیت شریفہ ہے جس کی رو سے صحابہ رضی اللہ عنهم كا اس بات پر اجماع ہو گیا تھا کہ تمام نبی اور رسول فوت ہو چکے ہیں اور کوئی ان میں سے دنیا میں واپس آنے والا نہیں بلکہ اس اجماع کی اصل غرض یہی تھی کہ دنیا میں واپس آنا کسی کے لئے ممکن نہیں اور اس اجماع سے اس خیال کا ازالہ مطلوب تھا کہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں آیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پھر دنیا میں واپس آئیں گے اور منافقوں کے ناک اور کان کاٹیں گے۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ اگر اسلام میں کسی نبی کا دنیا میں واپس آنا تسلیم کیا جاتا تو اس آیت کے پڑھنے سے حضرت عمر کے خیال کا ازالہ غیر ممکن ہوتا اور ایسی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی کسر شان تھی بلکہ ایسی صورت میں حضرت ابوبکر کا اس آیت کو پڑھنا ہی بے محل تھا۔ غرض یہ آیت بھی وہ عالی شان آیت ہے کہ جو ال عمران : ۱۴۵