براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 390
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۹۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سچا مومن یہ گستاخی کا کلمہ زبان پر لاسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ابھی تک بہشت سے باہر ہیں جن کے روضہ کے نیچے بہشت ہے مگر وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ذریعہ سے ایمان اور تقویٰ کا مرتبہ حاصل کیا وہ شہید ہونے کی وجہ سے بہشت میں داخل ہیں اور بہشتی میوے کھا رہے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو وقف کر دیا وہ شہید ہو چکا۔ پس اس صورت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اول الشہداء ہیں۔ سو جب کہ یہ بات ثابت ہے تو ہم بھی کہتے ہیں کہ میسج بھی مع جسم آسمان پر اٹھایا گیا مگر اُس جسم کے ساتھ جو اس (۲۱۵) عصری جسم سے الگ ہے ) اور پھر خدا تعالیٰ کے بندوں میں داخل ہوا اور بہشت میں داخل ہوا۔ اس صورت میں ہماری اور ہمارے مخالفوں کی نزاع صرف لفظی نزاع نکلی ۔ اب جب کہ اس صورت پر رفع مع جسم ثابت ہوا تو اس کے بعد کیا ضرورت اور حاجت ہے کہ ایک مسلّم سنت اللہ سے جو تمام انبیاء کی نسبت ایک پاک جسم عطا کرنے کی ہے منہ پھیر کر حضرت عیسی کو مع خاکی جسم کے آسمان پر اٹھایا جائے اور اگر یہ اعتقاد ہو کہ ان کو بھی بعد موت ایک نورانی جسم ملا تھا جیسا کہ حضرت ابرا ہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت سجی وغیرہ انبیاء کو جسم ملا تھا اور اُسی جسم کے ساتھ وہ خدا تعالی کی طرف اٹھائے گئے تھے تو ہم کب اس سے انکار کرتے ہیں۔ اس قسم کے جسم کے ساتھ حضرت مسیح کا آسمان پر جانا ہمیں بدل و جان منظور ہے۔ ہے چشم ما روشن و دلِ ما شاد۔ اور اگر چہ آیات ممدوحہ بالا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر نصوص صریحہ قطعیہ ہیں مگر تا ہم اگر قرآن شریف کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اور بھی بہت سی ایسی آیات ہیں جیسا کہ جب دھو ما حواری نے شک کیا کہ کیونکر عیسی صلیب سے رہائی پا کر آ گیا تو حضرت عیسی نے ثبوت دینے کے لئے اپنے زخم اس کو دکھلائے اور دھومانے ان زخموں میں انگلی ڈالی۔ پس کیا ممکن ہے کہ جلالی جسم میں بھی زخم موجود رہے اور کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جلالی جسم بھی ملا پھر بھی زخموں سے رہائی نہ ہوئی بلکہ جلالی جسم وہ تھا جو کشمیر میں وفات پانے کے بعد ملا۔ منہ