براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 337

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۳۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اُن کو کچھ بھی خبر نہیں اور صحیح علم ان کو حاصل نہیں محض انکلوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یعنی نہ عیسی (۱۲۹ آسمان پر گیا جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے اور نہ یہودیوں کے ہاتھ سے ہلاک کیا گیا جیسا کہ یہودیوں کا گمان ہے بلکہ صحیح بات ایک تیسری بات ہے کہ وہ مخلصی پا کر ایک دوسرے ملک میں چلا گیا اور خود یہودی یقین نہیں رکھتے کہ انہوں نے اس کو قتل کر دیا بلکہ خدا نے اُس کو اپنی طرف اُٹھالیا اور خدا غالب اور حکمتوں والا ہے ہمیں اب ظاہر ہے کہ ان آیات کے سر پر یہ قول یہودیوں کی طرف سے منقول ہے کہ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ یعنی ہم نے مسیح عیسی ابن مریم کو قتل کیا۔ سو جس قول کو خدا تعالیٰ نے یہودیوں کی طرف سے بیان فرمایا ہے ضرور تھا کہ پہلے اسی کورڈ کیا جاتا اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قتلوا کے لفظ کو صلبوا کے لفظ پر مقدم بیان کیا کیونکہ جو دعویٰ اس مقام میں یہودیوں کی طرف سے بیان کیا گیا ہے وہ تو یہی ہے کہ انا قتلنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ پھر بعد اس کے یہ بھی معلوم ہو کہ حضرت عیسی کے ہلاک کرنے کے بارے میں کہ کس طرح ان کو ہلاک کیا۔ یہودیوں کے مذہب قدیم سے دو ہیں۔ ایک فرقہ تو کہتا ہے کہ تلوار کے ساتھ پہلے ان کو قتل کیا گیا تھا اور پھر ان کی لاش کو لوگوں کی عبرت کے لئے صلیب پر یا درخت پر لٹکایا گیا۔ اور دوسرا فرقہ یہ کہتا ہے کہ اُن کو صلیب دیا گیا تھا اور پھر بعد صلیب ان کو قتل کیا گیا۔ اور یہ دونوں فرقے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے اور اب بھی موجود ہیں ۔ پس چونکہ ہلاک کرنے کے وسائل میں یہودیوں کو اختلاف تھا۔ بعض ان کی ہلاکت کا ذریعہ اوّل قتل قرار دے کر پھر صلیب کے قائل تھے اور بعض صلیب کو قتل پر مقدم یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسی کو قتل کر دیا اس قول سے یہودیوں کا مطلب یہ تھا کہ عیسی کا مومنوں کی طرح خدا تعالی کی طرف رفع نہیں ہوا کیونکہ توریت میں لکھا ہے کہ جھوٹا پیغمبر قتل کیا جاتا ہے۔ پس خدانے اس کا جواب دیا کہ عیسی قتل نہیں ہوا بلکہ ایمانداروں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اس کا رفع ہوا۔ منہ