براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 325

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۲۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم وما النفس يا مسكين الا وديعة ولا بد يومًا ان تُردّ وتحضر (۱۵۷) اور اے مسکین جان تو ایک امانت ہے اور ایک دن ضرور ہے کہ تو واپس کیا جائے اور حاضر کیا جائے أتبغى الحياة و لا تريد ثمارها وماهي الا لعنة لوتفكَّرُ کیا تو زندگی چاہتا ہے اور اُس کے پھل نہیں چاہتا اور بغیر پھل کے زندگی ایک لعنت ہے اگر تو سوچے اغرتک دنياك الدنيّة زينة حذار مــن الــمـوت الذي هو يبدرُ کیا تیری ذلیل دنیا نے تجھے مغرور کر دیا اس موت سے ڈر جو یکدفعہ تیرے پر وارد ہو گی ترید هوانی كل يوم وليلة وتبغى لوجه مشرق أو يُعبر ہر ایک دن اور رات تو میری ذلت چاہتا ہے اور روشن منہ کے لئے تو چاہتا ہے کہ وہ غبار آلودہ ہو جائے وانا و انتم لا نـغـيـب مـن الـذي يـرى كـلـمـانـنـوی وما نتصوّر اور ہم اور تم اس ذات سے پوشیدہ نہیں ہیں جو ہمارے وہ تمام خیالات دیکھتا ہے جو ہمارے دل میں ہیں۔ وما المرء إلا كالحباب وجوده فان شئتَ نَم فالموت كالصبح يُسفر اور انسان تو محض بلبلہ کی طرح اس کا وجود ہے پس اگر چاہے تو سو جا پس موت صبح کی طرح ظاہر ہو جائے گی لدى النخل و الرّمان تنقف حنظلا فاى غبى منك في الدهر اکبر تو کھجور اور انار کو چھوڑ کر حنظل کو توڑ رہا ہے پس تجھ سے زیادہ بدبخت اور کون ہو گا و این ضياء الصدق ان كنت صادقًا و كل صدوق بالعلامات يظهر اور صدق کی روشنی کہاں ہے اگر تو صادق ہے اور ہر ایک صادق علامات سے اتؤذى عباد الله يا عابد الهَوَى ولا تتقى ربَّا عليمًا وتجسر ظاہر ہوتا ہے کیا تو خدا کے بندوں کو اے بندہ ہوا دکھ دیتا ہے اور خدائے علیم سے نہیں ڈرتا اور دلیری کرتا ہے اولئک قوم قد تولی امورهم قدیــر يـواليـهـم ويهدى و ينصر ایک قادر ہے جو اُن سے دوستی رکھتا ہے اور انہیں ہدایت یہ ایک قوم ہے کہ ان کے کاموں کا متوتی کرتا ہے اور مدد دیتا ہے