براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 293
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۹۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم انسان کا ہوتا اور خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو اس کا نام ونشان نہ رہتا۔ پچیس برس بلکہ اس سے بھی زیادہ مدت گذر گئی جب میں نے دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور اگر چہ اس دعوے پر ایک دنیا کو مخالفت کا جوش رہا مگر اے مولوی صاحب آپ نے تو میری ایذاء میں کوئی دقیقہ کوشش کا اٹھا نہ رکھا اور آپ نہ صرف پبلک کو بلکہ ہمیشہ گورنمنٹ انگریزی کو بھی دھوکا دیتے رہے کہ یہ شخص مفتری اور گورنمنٹ کا بدخواہ ہے اور خون جیسے سنگین مقدمے میرے پر کئے گئے اور آپ ایسے مقدمات کے ثابت کرانے کے لئے خود گواہ بن کر کچہری میں حاضر ہوئے۔ اور میرے پر کفر کے فتوے لکھائے اور مجھ سے لوگوں کو بیزار کرنا چاہا۔ یہ اُس زمانہ کی بات ہے جب کہ میرے ساتھ صرف چند آدمی تھے اور ۱۲۷ آپ کی مخالفانہ کوششوں کے بعد کئی لاکھ آدمی میرے ساتھ ہو گئے ۔ اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو میرے تباہ کرنے کے لئے آپ کی کوششوں کی ضرورت نہ تھی ۔ میں خود اپنے افترا اور شامت اعمال سے تباہ ہو جاتا۔ یہ بات عقل سلیم قبول نہیں کر سکتی کہ ایک مفتری کو ایک ایسی لمبی مہلت دی جائے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت سے بھی زیادہ ہو کیونکہ اس طرح پر امان اُٹھ جاتا ہے اور کوئی ما بہ الامتیاز صادق اور کاذب میں قائم نہیں رہتا۔ بھلا اس بات کا تو جواب دو کہ جب سے میں نے دعویٰ کیا ہے کس قدر مقدمے میرے خلاف فوجداری میں اٹھائے گئے اور کوشش کی گئی کہ مجھے ماخوذ کرائیں اور آپ نے ایسے مقدمات کی تائید میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ مگر کیا کسی مقدمہ میں آپ یا آپ کا گر وہ فتح یاب بھی ہوا ؟ اگر میں صادق نہ ہوتا تو کیا وجہ کہ ہر ایک جگہ اور ہر ایک موقعہ میں خدا تعالیٰ کا ذب کی ہی حمایت کرتا رہا اور جو صادق کہلاتے تھے ہر ایک میدان میں اُن کا منہ کالا ہوتا رہا۔ بد دعائیں کرتے کرتے سجدوں میں اُن کی ناک گھس گئی مگر دن بدن خدا میری مدد کرتا رہا اور میرے مقابل پر ان کی کوئی دعا قبول نہ ہوئی اور آپ کا تو اب تک شیوہ رہا ہے کہ بار بار خلاف واقعہ باتیں میری نسبت اپنے رسالوں اور نیز اخباروں