براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 292

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۹۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی اعتقاد نہیں رکھتا کہ آپ بھی پھر آئیں گے کیونکہ آنجناب نے اپنی آمد اول میں ہی کافروں کو وہ ہاتھ دکھائے جواب تک یاد کرتے ہیں اور پوری کامیابی کے ساتھ آپ کا انتقال ہوا۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ابن العربی صاحب نے آخر عمر میں اپنے پہلے اقوال سے رجوع کر لیا تھا۔ اس لئے ان کا آخری بیان پہلے بیان سے متناقض ہے۔ ایسا ہی بعض اور فرقے صوفیوں کے کھلے طور پر حضرت عیسی کی وفات کے قائل ہیں۔ اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۲۶ کی وفات کے وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کا اسی پر اجماع ہو گیا تھا جو انبیاء گذشتہ جن میں حضرت عیسی بھی شامل ہیں فوت ہو چکے ہیں۔ اُن میں سے ایک بھی زندہ نہیں پھر جیسے جیسے مذہب اسلام میں جہالت اور بدعات پھیلتی گئیں یہ بدعت بھی دین کا ایک جزو ہو گئی کہ حضرت عیسی مُردہ ارواح کی جماعت میں سے نکل کر پھر دنیا میں واپس آئیں گے۔ اس عقیدہ نے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے کیونکہ تمام دنیا میں سے صرف ایک ہی انسان کو یہ خصوصیت دی ہے کہ وہ آسمان پر مع جسم چلا گیا اور کسی زمانہ میں مع جسم واپس آئے گا۔ یہ عقیدہ حضرت عیسیٰ کو خدا بنانے کی پہلی اینٹ ہے کیونکہ ان کو ایک خصوصیت دی گئی ہے جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ۔ خدا جلد یہ داغ اسلام کے چہرہ سے دور کرے۔ آمین بالآخر میں مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو محض حسبةً لِلله نصیحت کرتا ہوں کہ آپ آخر عمر تک پہنچ گئے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کے مقابل پر بیہودہ چالا کیوں کو چھوڑ دیں ۔ آپ نے بہت زور لگایا ہر ایک قسم کا مکر کیا اور نور کے بجھانے کے لئے قابل شرم منصوبوں سے کام لیا مگر انجام کا رنا مرادر ہے۔ اگر میں مفتری ہوتا تو آپ کا کہیں نہ کہیں ہاتھ پڑ جاتا اور میں کب کا تباہ ہو جاتا ۔ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بد ذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے۔ اگر یہ کاروبار