براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 278
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۷۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور جھوٹی عبارتیں بنا کر میری طرف منسوب کرتا ہے کیا وہ کسی سرزنش اور تعزیر شرعی کے لائق ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔ اور یہ بھی محض اللہ فرما دیں کہ کیا ایسا شخص جو اس طرح کی شوخی سے جعلسازی کرتا ہے اس لائق ہے کہ آئندہ اس کو مولوی کے نام سے پکارا جائے۔ اور کیا مناسب نہیں کہ ایک مجلس علماء مقرر کر کے اس کو بلایا جاوے اور اس سے پوچھا جاوے کہ یہ فرضی عبارت جو میری طرف اُس نے منسوب کی ہے میں نے کس کتاب یا رسالہ میں اس کولکھا ہے۔ مولوی کہلا کر یہ افترا اور یہ تحریف اور یہ خیانت اور یہ جھوٹ اور یہ دلیری اور یہ شوخی ان باتوں کا تصور کر کے بدن کانپتا ہے۔ کیا مجھے کافر اور بے ایمان کہنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث جس میں کہ لکھا ہے کہ آخری زمانہ کے اکثر مولوی یہودیوں کے مولویوں سے مشابہت پیدا کر لیں گے یاد نہیں رکھتے بلکہ اس سے بڑھ کر بعض حدیثوں میں یہ بھی آیا ہے کہ اس قدر مشابہت پیدا کریں گے کہ اگر کسی یہودی نے ماں سے بھی زنا کیا ہوگا تو وہ بھی کر لیں گے ہم آخری زمانہ کے وہ علماء جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود اس امت کے قرار دیا ہے وہ بالخصوص اسی قسم کے مولوی ہیں جو مسیح موعود کے مخالف اور جانی دشمن اور اس کی تباہی کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور اس کو کافر اور بے ایمان اور دجال کہتے ہیں اور اگر ان کے لیے ممکن ہو تو اس کو صلیب دینے کے لئے طیار ہیں کیونکہ یہود کے فقیہ اور فریسی حضرت عیسی علیہ السلام سے اسی طرح پیش آئے تھے اور ان کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جو علماء اس قسم کے نہیں ہیں ان کو ہم اس امت کے یہودی نہیں کہہ سکتے بلکہ جولوگ حضرت عیسی کے دشمنوں کی طرح مجھے دجال اور کافر اور بے ایمان کہتے ہیں وہی یہودی ہیں اور میں ان کو یہودی نہیں کہتا بلکہ خدا تعالیٰ کا کلام ان کو یہودی کہتا ہے اور یہ تو امر مجبوری ہے جس حالت میں در حقیقت میں سچا ہوں نہ کا فرنہ دجال نہ بے ایمان ہوں۔ پس جو شخص بچے مسیح کو ایسے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہودی قرار دیتے ہیں۔ اگر مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب مجھے بے ایمان کا فرد جال قرار نہیں دیتے اور واجب القتل نہیں سمجھتے تو ہم ان کو یہودی نہیں کہتے اور اگر وہ مجھے ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور خدا جانتا ہے کہ میں سچا مسیح موعود ہوں تو اس صورت میں وہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مصداق بن کر اپنے تئیں یہودی بناتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ تم کیوں عیسی بنے۔ اس کا یہی جواب ہے کہ آپ لوگوں کے طفیل ہے۔ اگر آپ یہودی نہ بنتے تو میرا نام یہ نہ ہوتا ۔ منہ