براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 277
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۷۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میری طرف منسوب کیا ہے اور اپنی طرف سے ایک عبارت بنا کر میری طرف منسوب کی ہے وہ عبارت پھر ہم دوبارہ لکھ دیتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے براہین احمدیہ کی پیشگوئی سے مجھے بہت صفائی سے خدا کی طرف سے یہ خبر مل چکی تھی کہ اس سے زلزلہ مراد ہے تاہم میں نے قوم کی بد گوئی اور بدظنی کے خوف سے اس کو چھپایا۔ اور عربی کا ترجمہ اُردو میں کر کے شائع نہ کیا ۔ اور میں اس فعل سے خدا کے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور پچیس برس تک اسی گناہ پر قائم اور مصر رہا۔ ۲۵ اب ناظرین انصافاً فرما دیں کہ کیا یہ بیان جو مولوی صاحب موصوف نے میری طرف ۱۱۳ منسوب کیا ہے یہ میرے اشتہا ر ۲۱ / اپریل ۱۹۰۵ء کی عبارت کے مخالف ہے یا نہیں جس کو ابھی میں نے نقل کر دیا ہے کیونکہ میں اشتہار مذکور میں صاف طور پر لکھ چکا ہوں کہ اُس اشتہار سے پہلے جو براہین احمدیہ سے چھپیش برس بعد میں نے اا رمئی ۱۹۰۵ء کو شائع کیا ہے اس بات کی طرف ذہن منتقل نہیں ہوا تھا کہ زلزلہ سے مراد در حقیقت ظاہری طور پر زلزلہ ہے بلکہ پچھیش برس بعد زلزلہ کے آنے پر ان الہامات کے معنے کھلے۔ پس جب کہ یہ دونوں بیانات متناقض ہیں اور میں اُن میں سے صرف ایک بیان کو قبول کرتا ہوں جو مولوی صاحب کے اس مضمون میں بھی انہیں کے ہاتھ سے درج ہو چکا ہے۔ یعنی یہ کہ میں پچیس برس تک براہین احمدیہ کے الہام صفحہ ۵۱۶ اور صفحہ ۵۵۷ کوکسی ایک پہلو پر متعین نہ کر سکا تو اس میں کیا شک ہے کہ دوسرا بیان اُس وقت تک محض مولوی صاحب کا افترا سمجھا جائے گا جب تک کہ وہ میری کسی کتاب یا اشتہار میں سے یہ ثابت کر کے نہ دکھلا دیں کہ یہ عبارت مذکورہ میں نے کسی جگہ لکھی ہے اور یا کسی جگہ میں نے یہ لکھا ہے کہ پچپیش برس تک اس گناہ پر قائم اور مصر رہا کہ باوجود یکہ براہین احمدیہ کے زمانہ سے قطعی علم زلزلہ کے متعلق مجھے ہو چکا تھا پھر میں نے اس خبر کو مخفی رکھا۔ اب اے ناظرین برائے خدا اپنی موت کو یاد کر کے ایمانا مجھے بتلاؤ کہ جو شخص اس قدر افترا کرتا