براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 275

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۷۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کی ہے درحقیقت میرے ہی قلم سے نکلی ہے۔ چنانچہ وہ عبارت جو آپ نے محض جعلسازی سے میری طرف منسوب کر دی ہے وہ یہ ہے۔ براہین احمدیہ کی پیشگوئی سے مجھے بہت صفائی ہے سے خدا کی طرف سے یہ خبر مل چکی تھی کہ اس سے زلزلہ مراد ہے تاہم میں نے قوم کی بدگوئی اور بدظنی کے خوف سے اُس کو چھپایا اور عربی کا ترجمہ اردو میں کر کے شائع نہ کیا۔ اور میں اس فعل سے خدا کے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا۔ اور پچیس برس تک اسی گناہ پر قائم اور مصر رہا۔اے مفتری نابکار کیا اب بھی ہم نہ کہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ۔ جس نے آپ عبارت بنا کر میری طرف منسوب کر دی۔ اے سخت دل ظالم تجھے مولوی کہلا کر شرم نہ آئی کہ تو نے ناحق اس قدر میرے پر جھوٹ بولا ۔ کیا تو دکھلا سکتا ہے کہ میرے اشتہار ارمئی ۱۹۰۵ء میں یا کسی اور اشتہار میں یا کسی رسالہ میں یہ عبارت موجود ہے جو تو نے لکھی ! لعنة الله على الكاذبين۔ اس جگہ اُن لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیے کہ جو ایسے لوگوں کو مولوی اور دیانتدار سمجھ کر اُن کے قول پر عمل کرنے کو طیار ہوتے ہیں۔ یہ حال ہے ان لوگوں کی دیانت کا اور جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے مولوی صاحب موصوف کا یہ بیان بھی تناقض سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ اخبار مذکور کے صفحہ پانچ کالم تیسرے میں پندرھویں سطر و چو بیسویں سطر میں میرے اشتہار کی عبارت یہ لکھتے ہیں کہ ”میں نے براہین احمدیہ میں اس زلزلہ کی خبر دی تھی اور اگر چہ اُس وقت اس خارق عادت بات کی طرف ذہن منتقل نہ ہو سکا لیکن اب ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والے زلزلہ کی نسبت تھیں جو اُس وقت نظر سے مخفی رہ گئیں۔ اب ناظرین خود دیکھ لیں کہ اس عبارت مذکورہ بالا کا یہی مطلب ہے کہ اُس زمانہ میں کہ جب براہین احمدیہ کے لکھنے کا زمانہ تھا ذ ہن اس طرف منتقل نہ ہو سکا کہ زلزلہ سے مراد در حقیقت زلزلہ ہے اور یہ امر اُس وقت نظر سے مخفی رہا اور اب پچیس برس