براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 273
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۷۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۵۱۶ میں درج تھی اور دوسری صفحہ ۵۵۷ میں درج تھی۔ اور میرے اشتہا را ارمئی ۱۹۰۵ء (۱۰۹) میں صرف ایک پیشگوئی کی نسبت لکھا ہے کہ اس کا ترجمہ اردو میں نہیں ہوا۔ پس اگر اس جگہ اشتہارا ارمئی ۱۹۰۵ء میں براہین احمدیہ کی وہ دو پیشگوئیاں مراد ہیں تو اس میں یہ عبارت نہیں ہونی چاہئے تھی کہ عربی پیشگوئی کا ترجمہ بھی نہیں ہوا تھا۔ بلکہ یہ عبارت ہونی چاہئے تھی کہ عربی دو پیشگوئیوں کا ترجمہ بھی نہیں ہوا تھا۔ اور پھر بھی ایسا لکھنا جھوٹ ہوتا کیونکہ دونوں عربی پیشگوئیوں کا ترجمہ براہین احمدیہ میں موجود ہے جو شخص چاہے دیکھ لے۔ پھر علاوہ اس کے وہ اشتہار مورخہا ارمئی ۱۹۰۵ء جس پر مولوی صاحب یہ نکتہ چینی کرتے ہیں ابھی دنیا سے گم نہیں ہو گیا بہتوں کے پاس موجود ہو گا۔ اس کی اصل عبارت یہ ہے اُس زلزلہ کے بعد مجھے بار بار خیال آیا کہ میں نے بڑا گناہ کیا کہ جیسا کہ حق شائع کرنے کا تھا اس پیشگوئی کو شائع نہ کیا کیونکہ وہ پیشگوئی صرف اردو کے دو اخبار اور دور سالوں میں شائع ہوئی تھی اور یہ بھی فرو گذاشت ہوئی تھی کہ عربی پیشگوئی کا ترجمہ بھی نہیں ہوا تھا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ براہین احمدیہ کی عربی پیشگوئیاں جو صفحہ ۵۱۶ اور صفحہ ۵۵۷ میں درج ہیں نہ اردو دو اخباروں میں شائع ہوئیں اور نہ ان کا ترجمہ کرنا رہ گیا اور نہ کسی اور رسالہ میں ان کا ذکر ہوا بلکہ وہ پیشگوئی جو دو اردو اخباروں میں درج ہوئی تھی اور جس کا عربی سے اردو میں ترجمہ نہیں ہوا تھا وہ یہی پیشگوئی عفت الديار محلها و مقامھا ہے۔ کیونکہ وہ علاوہ دو اخباروں کے جن میں سے ایک الحکم ۳۱ رمئی ۱۹۰۵ ء ہے دور سالوں میں بھی درج ہو چکی تھی یعنی اُس کو مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے نے اپنے دونوں رسالوں میں ۲۰ مارچ ۱۹۰۴ء کو شائع کر ☆ دیا تھا۔ چنانچہ حاشیہ میں ان کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ درج ہے ۔ اب ذرا آنکھ کھول کر حمد سیدی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ یہ الہام عفت الديار محلها و مقامها ۔ مارچ کے دونوں رسالوں میں شائع ہو چکا تھا اور رسالہ کے صفحہ ۱۲۶ میں درج ہے۔ اسی الہام کو پڑھ کر اور پھر زلزلہ کی خبر اخباروں میں پڑھ کر چارلس سورائٹ عبد الحق نے جو اس وقت نیوزی لینڈ میں تھا خط لکھا تھا۔ جس میں زلزلہ کے ذریعہ سے اس الہام کے پورا ہونے پر بہت ہی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ( محمد علی)