براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 232
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نزدیک یہ ہے کہ وہ صرف مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ترک نہیں کرتا بلکہ وہ چیز جس سے وہ مال سے بھی بڑھ کر پیار کرتا ہے یعنی شہوات نفسانیہ اُن کا وہ حصہ جو حرام کے طور پر ہے چھوڑ دیتا ہے ہم بیان کر چکے ہیں کہ ہر ایک انسان اپنی شہوات نفسانیہ کو طبعا مال سے عزیز تر سمجھتا ہے اور مال کو ان کی راہ میں فدا کرتا ہے۔ پس بلا شبہ مال کے چھوڑنے سے خدا کے لئے شہوات کو چھوڑ نا بہت بھاری ہے اور لفظ افلح جو اس آیت سے بھی تعلق رکھتا ہے اُس کے اس جگہ یہ معنی ہیں کہ جیسے شہوات نفسانیہ سے انسان کو طبعا شدید تعلق ہوتا ہے ایسا ہی ان کے چھوڑنے کے بعد وہی شدید تعلق خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص کوئی چیز خدا تعالیٰ کی راہ میں کھوتا ہے اُس سے بہتر پالیتا ہے۔۔ لطف او ترک طالبان نه کند کس به کار رهش زیان نه کند ہر که آن را ه جست یافته است تافت آن رو که سرنتافته است پھر پانچواں کام مومن کا جس سے پانچویں درجہ تک قوت ایمانی پانچ جاتی ہے عند العقل یہ ہے کہ صرف ترک شہوات نفس ہی نہ کرے بلکہ خدا کی راہ میں خود نفس کو ہی ترک کر دے اور اس کے فدا کرنے پر طیار رہے۔ یعنی نفس جو خدا کی امانت ہے اسی مالک کو واپس دیدے اور نفس سے صرف اس قدر تعلق رکھے جیسا کہ ایک امانت سے تعلق ہوتا ہے اور دقائق تقویٰ ایسے طور پر پوری کرے کہ گویا اپنے نفس اور مال اور تمام چیزوں کو خدا کی راہ میں وقف کر چکا ہے ۔ اسی طرف یہ آیت اشارہ فرماتی ہے وَالَّذِينَ هُمْ لِاَ مُنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ پس جبکہ انسان کے جان و مال اور تمام قسم کے آرام خدا کی امانت ہے جس کو واپس دینا امین ہونے کے لئے شرط ہے لہذا ترک نفس وغیرہ کے یہی معنے ہیں کہ یہ امانت خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے اس طور سے جیسا کہ نفس خدا تعالی کی امانت ہے ایسا ہی مال بھی خدا تعالی کی امانت ہے۔ پس جو شخص صرف اپنے مال میں سے زکوۃ دیتا ہے دو مال کو اپنا مال سمجھتا ہے مگر جو شخص مال کو خدا تعالی کی امانت سمجھتا ہے وہ اپنے تمام مال کو خدا تعالیٰ کا مال جانتا ہے اور ہر ایک وقت خدا کی راہ میں دیتا ہے گو کوئی زکوۃ اس پر واجب نہ ہو۔ منہ المومنون : ٩