براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 231

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم پہلے کی نسبت ایمان کچھ قوی ہو جاتا ہے عقل سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ مومن اپنے دل کو جو خشوع کے مرتبہ تک پہنچ چکا ہے لغو خیالات اور لغو شغلوں سے پاک کرے کیونکہ جب تک مومن یہ ادنی قوت حاصل نہ کر لے کہ خدا کے لئے لغو باتوں اور لغو کاموں کو ترک کر سکے جو کچھ بھی مشکل نہیں اور صرف گناہ بے لذت ہے اُس وقت تک یہ طمع خام ہے کہ مومن ایسے کاموں سے دست بردار ہو سکے جن سے دست بردار ہونا نفس پر بہت بھاری ہے اور جن کے ارتکاب میں نفس کو کوئی فائدہ یا لذت ہے۔ پس اس سے ثابت ہے کہ پہلے درجہ کے بعد کہ ترک تکبر ہے دوسرا درجہ ترک لغویات ہے۔ اور اس درجہ پر وعدہ جو لفظ افلح سے کیا گیا ہے یعنی فوز مرام اس طرح پر پورا ہوتا ہے کہ مومن کا تعلق جب لغو کاموں اور لغوشغلوں سے ٹوٹ جاتا ہے تو ایک خفیف سا تعلق خدا تعالیٰ سے اس کو ہو جاتا ہے اور قوت ایمانی بھی پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور خفیف تعلق اس لئے ہم نے کہا کہ لغویات سے تعلق بھی خفیف ہی ہوتا ہے پس خفیف تعلق چھوڑنے سے خفیف تعلق ہی ملتا ہے۔ پھر تیسرا کام مومن کا جس سے تیسرے درجے تک قوت ایمانی پہنچ جاتی ہے عقل سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ وہ صرف لغو کاموں اور لغو باتوں کو ہی خدا تعالیٰ کے لئے نہیں چھوڑتا بلکہ اپنا عزیز مال بھی خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ لغو کاموں کے چھوڑنے کی نسبت مال کا چھوڑ نانفس پر زیادہ بھاری ہے کیونکہ وہ محنت سے کمایا ہوا اور ایک کارآمد چیز ہوتی ہے۔ جس پر خوش زندگی اور آرام کا مدار ہے اس لئے مال کا خدا کے لئے چھوڑ نا بہ نسبت لغو کاموں کے چھوڑنے کے قوت ایمانی کو زیادہ چاہتا ہے اور لفظ افلح کا جو آیات میں وعدہ ہے اس کے اس جگہ یہ معنی ہوں گے کہ دوسرے درجہ کی نسبت اس مرتبہ میں قوت ایمانی اور تعلق بھی خدا تعالیٰ سے زیادہ ہو جاتی ہے اور نفس کی پاکیزگی اس سے پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ اپنے ہاتھ سے اپنا محنت سے کمایا ہوا مال محض خدا کے خوف سے نکالنا بجو نفس کی پاکیزگی کے ممکن نہیں۔ پھر چوتھا کام مومن کا جس سے چوتھے درجہ تک قوت ایمانی پہنچ جاتی ہے عقلِ سلیم کے ۷۲)