براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 203

٢٠٣ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ پورے طور پر ان کے دلوں میں حضرت عزت جل شانہ کی عظمت اور ہیبت نہیں بیٹھی اس لئے صرف علمی اور لغو باتوں کے چھوڑنے پر قادر ہو سکتے ہیں نہ اور باتوں پر ۔ پس ناچار اس قدر پلیدی (۴۶) اُن کے نفوس ناقصہ میں رہ جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ایک خفیف سا تعلق پیدا کر کے لغویات سے تو کنارہ کش ہو جاتے ہیں لیکن وہ ان کاموں کو چھوڑ نہیں سکتے جن کا چھوڑ نانفس پر بہت بھاری ہے یعنی وہ خدا تعالی کے لئے ان چیزوں کو چھوڑ نہیں سکتے جو نفسانی لذات کے لئے لوازم ضرور یہ ہیں اس بیان سے ظاہر ہے کہ محض لغویات سے منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے جو بہت قابل تحسین ہو بلکہ یہ مومن کی ایک ادنیٰ حالت ہے ہاں خشوع کی حالت سے ایک درجہ ترقی پر ہے۔ اور جسمانی وجود کے تیسرے درجہ کے مقابل پر روحانی وجود کا تیسرا درجہ واقع ہوا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جسمانی وجود کا تیسرا مرتبہ یہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مطعة یعنی پھر بعد اس کے ہم نے علقہ کو بوٹی بنایا۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس میں وجود جسمانی انسان کا ناپاکی سے باہر آتا ہے اور پہلے سے اس میں کسی قدر شدت اور صلابت بھی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ نطفہ اور خون جما ہوا جو علقہ ہے وہ دونوں ایک نجاست خفیفہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور اپنے قوام کے رو سے بھی بہ نسبت مضغہ کے نرم اور رقیق ہیں مگر مضغہ جو ایک گوشت کا ٹکڑہ ہوتا ہے پاک حالت اپنے اندر پیدا کرتا ہے اور بہ نسبت نطفہ اور علقہ کے قوام میں بھی ایک حد تک سختی پیدا کر لیتا ہے۔ یہی حالت روحانی وجود کے تیسرے درجہ کی ہے اور روحانی وجود کا تیسرا درجہ وہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكُوةِ فَعِلُونَ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ وہ مومن کہ جو پہلی دو حالتوں سے بڑھ کر قدم رکھتا ہے وہ صرف بیہودہ اور لغو باتوں سے ہی کنارہ کش نہیں ہوتا بلکہ بخل کی پلیدی کو دور کرنے کے لئے جو طبعا ہر ایک انسان کے اندر ہوتی ہے زکوۃ بھی دیتا ہے یعنی خدا کی راہ میں ایک حصہ اپنے مال کا خرچ کرتا ہے۔ زکوۃ کا نام اسی لئے زکوۃ ہے کہ انسان اس کی بجا آوری سے یعنی اپنے مال کو جو اس کو بہت پیارا ہے اللہ دینے سے بخل کی پلیدی سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور جب بخل کی پلیدی جس سے انسان طبعاً بہت تعلق رکھتا ہے انسان کے اندر سے نکل جاتی ہے تو وہ کسی حد تک پاک بن کر ل المؤمنون : ۱۵ المؤمنون : ۵