براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 202
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۰۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم (۲۵) بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ جو باوجود خشوع اور سوز و گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعا تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت اُن کے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے اور یہ اس بات پر دلیل ہوتی ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق ہو گیا ہے کیونکہ ایک طرف سے انسان تب ہی منہ پھیرتا ہے جب دوسری طرف اس کا تعلق ہو جاتا ہے۔ پس دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو سیر وتما شا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اُسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔ ایسا ہی نطفہ بھی اسی وقت لغو طور پر ضائع ہو جانے سے محفوظ ہوتا ہے جب رحم سے اس کا تعلق ہو جائے اور رحم کا اثر اس پر غالب آجائے اور اس تعلق کے وقت نطفہ کا نام علاقہ ہو جاتا ہے۔ پس اسی طرح روحانی وجود کا دوسرا مرتبہ بھی جو مومن کا معرض عن اللغو ہوتا ہے روحانی طور پر علقہ ہے کیونکہ اسی مرتبہ پر مومن کے دل پر ہیبت اور عظمت الہی وارد ہو کر اس کو لغو باتوں اور لغو کاموں سے چھڑاتی ہے اور ہیبت اور عظمت الہی سے متاثر ہو کر ہمیشہ کے لئے لغو باتوں اور لغو کاموں کو چھوڑ دینا یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تعلق باللہ کہتے ہیںلیکن یہ تعلق جوصرف لغویات کے ترک کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے یہ ایک خفیف تعلق ہے کیونکہ اس مرتبہ پر مومن صرف لغویات سے تعلق توڑتا ہے لیکن نفس کی ضروری چیزوں سے اور ایسی باتوں سے جن پر معیشت کی آسودگی کا حصہ ہے ابھی اس کے دل کا تعلق ہوتا ہے اس لئے ہنوز ایک حصہ پلیدی کا اس کے اندر رہتا ہے۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے وجود روحانی کے اس مرتبہ کو علاقہ سے مشابہت دی ہے اور علقہ خون جما ہوا ہوتا ہے جس میں باعث خون ہونے کے ایک حصہ پلیدی کا باقی ہوتا ہے اور اس مرتبہ میں یہ نقص اس لئے رہ جاتا ہے کہ ایسے لوگ پورے طور پر خدا تعالیٰ سے ڈرتے نہیں اور