براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 198
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۹۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صرف ایک خون جما ہوا بن گیا اور رحم کے تعلق کی وجہ سے ضائع ہونے سے بچ گیا اور جس طرح اور صورتوں میں ایک نطفہ لغو طور پر پھیلتا اور بیہودہ طور پر اندر سے بہ نکلتا اور کپڑوں کو پلید کرتا تھا اب اس تعلق کی وجہ سے بریکار جانے سے محفوظ رہ گیا۔ لیکن ہنوز وہ ایک جما ہوا خون تھا جس نے ابھی نجاست خفیفہ کی آلودگی سے پاکی حاصل نہیں کی تھی ۔ اگر رحم سے یہ تعلق اس کا پیدا نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اندام نہانی میں داخل ہو کر بھی رحم میں قرار نہ پا سکتا اور باہر کی طرف یہ جاتا مگر رحم کی قوت مدیرہ نے اپنے خاص جذب سے اُس کو تھام لیا اور ۲۲) پھر ایک جمے ہوئے خون کی شکل پر بنا دیا۔ تب جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس تعلق کی وجہ سے علقہ کہلایا اور اس سے پہلے رحم نے اُس پر کوئی اپنا خاص اثر ظاہر نہیں کیا تھا اور اسی اثر نے اس کو ضائع ہونے سے روکا اور اسی اثر سے نطفہ کی طرح اُس میں رقت بھی باقی نہ رہی یعنی اس کا قوام رکیک اور پتلا نہ رہا بلکہ کسی قدر گاڑھا ہو گیا۔ اور اس علقہ کے مقابل پر جو جسمانی وجود کا دوسرا مرتبہ ہے روحانی وجود کا دوسرا مرتبہ وہ ہے جس کا ابھی ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں جس کی طرف قرآن شریف کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یعنی رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغوحرکتوں اور لغو مجلسوں اور اخو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور ایمان ان کا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اس قدر کنارہ کشی اُن پر سہل ہو جاتی ہے کیونکہ بوجہ ترقی ایمان کے کسی قدر تعلق اُن کا خدائے رحیم سے ہو جاتا ہے جیسا کہ علقہ ہونے کی حالت میں جب نطفہ کا تعلق کسی قدر رحم سے ہو جاتا ہے تو وہ لغو طور پر گر جانے یا بہ جانے یا اور طور پر ضائع ہو جانے سے امن میں آجاتا ہے الا ماشاء الله - سوروحانی وجود کے اس مرتبہ دوم میں خدائے رحیم سے تعلق بعینہ اُس تعلق سے مشابہ ہوتا ہے جو جسمانی وجود کے دوسرے مرتبہ پر عــلـقــه کو