براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 197
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۹۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم دوسرے جہان میں بھی یہ دونوں لڑتیں ہوں گی ۔ مگر مشابہت میں اس قدر ترقی کر جائیں گی کہ ایک ہی ہو جائیں گی یعنی اس جہان میں جو ایک شخص اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرے گا وہ اس بات میں فرق نہیں کر سکے گا کہ وہ اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرتا ہے یا محبت الہیہ کے دریائے بے پایاں میں غرق ہے اور واصلان حضرت عزت پر اسی جہان میں یہ کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو اہل دنیا اور مجو بوں کے لئے ایک امر فوق الفہم ہے۔ اب ہم یہ تو بیان کر چکے کہ روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو حالت خشوع ہے جسمانی وجود کے پہلے مرتبہ سے جو نطفہ ہے مشابہت تام رکھتا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ روحانی وجود کا دوسرا مرتبہ بھی جسمانی وجود کے دوسرے مرتبہ سے مشابہ اور مماثل ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ رُوحانی وجود کا دوسرا مرتبہ وہ ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ۔ یعنی مومن وہ ہیں جو لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں اور لغو تعلقات سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ اور اس کے مقابل پر جسمانی وجود کا دوسرا مرتبہ وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام عزیز میں علقہ کے نام سے موسوم فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةٌ یعنی پھر ہم نے نطفہ کو علقمہ بنایا یعنی ہم نے اُس کولغوطور پر ضائع ہونے سے بچا کر رحم کی تاثیر اور تعلق سے علقہ بنا دیا۔ اس سے پہلے وہ معرض خطر میں تھا اور کچھ معلوم نہ تھا کہ وہ انسانی وجود بنے یا ضائع جائے لیکن وہ رحم کے تعلق کے بعد ضائع ہونے سے محفوظ ہو گیا اور اس میں ایک تغیر پیدا ہو گیا جو پہلے نہ تھا یعنی وہ ایک جمے ہوئے خون کی صورت میں ہو گیا۔ اور قوام بھی غلیظ ہو گیا اور رحم سے اس کا ایک علاقہ ہو گیا اس لئے اس کا نام عـلـقـہ رکھا گیا اور ایسی عورت حاملہ کہلانے کی مستحق ہو گئی۔ اور بوجہ اس علاقہ کے رحم اس کا سر پرست بن گیا اور اس کے زیر سایہ نطفہ کا نشو ونما ہونے لگا مگر اس حالت میں نطفہ نے کچھ زیادہ پاکیزگی حاصل نہیں کی۔ ل المؤمنون : ۴ المؤمنون: ۱۵