براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 177

روحانی خزائن جلد ۲۱ 122 ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم موجود ہے ایک صریح اشارہ کے ساتھ زلزلہ کا ذکر کر دیا ہے کیونکہ آیت فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّه اس موقع کی آیت ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے کو وہ طور پر ایک زلزلہ ڈال کر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا جیسا کہ یہ بیان مفصل توریت میں موجود ہے پس اس صورت میں آپ کی اس حرکت کا نام تعصب رکھیں یا نادانی رکھیں ؟ جو آپ کہتے ہیں کہ ان عبارتوں میں کہیں زلزلہ کا ذکر نہیں۔ بندۂ خدا اگر زلزلہ کا ذکر نہیں تو تمہیں اس بات سے بھی انکار کرنا چاہیئے کہ کو طور بھی زلزلہ سے ٹکرے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ قوله_عفت الدیار کے مصرع کے یہ معنے ہیں کہ زمانہ گذشتہ میں مکان برباد ہو گئے تھے۔ اقول الحمد للہ ! یہ تو آپ نے مان لیا کہ عفت الديار محلها و مقامها کے یہی معنی ہیں کہ مکانات گر جانا اور برباد ہو جانا۔ باقی رہا یہ کہ آپ عفت کے لفظ کو ماضی کے معنوں تک محدود رکھتے ہیں۔ اس خیال کے رد میں ہم قرآن شریف کے نظائر پیش کر چکے ہیں بلکہ اس کے لئے تو تمام عرب کے باشندے ہمارے گواہ ہیں۔ اب بتلاؤ کیا اب بھی یہ پیشگوئی خارق عادت ۲۳ ہے یا نہیں اگر یہ کہو کہ اس میں کوئی وقت نہیں بتلایا گیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن پیشگوئیوں میں خدا تعالیٰ کو یہ منظور ہوتا ہے کہ ان کا وقت مخفی رکھا جائے اُن میں وہ ہرگز نہیں بتلاتا کہ فلاں وقت وہ پیشگوئی پوری ہوگی ۔ پس جب کہ خدا تعالیٰ صاف لفظوں میں فرماتا ہے کہ زلزلہ کی پیشگوئی ایسے وقت میں ظاہر ہوگی جب کہ کسی کو خبر نہیں ہوگی اور نا گہانی طور پر وہ حادثہ ظہور میں آئے گا۔ تو پھر اس حادثہ کا وقت بتلانا اپنے ہی قول کی مخالفت ہے۔ دیکھو اشتہار النداء صفحہ۱۴۔ اور اگر کہو کہ پھر تعین کے بغیر پیشگوئی میں خصوصیت کیا ہوئی۔ یوں تو بھی بھی دنیا پر کوئی حادثہ آ جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تعین کافی ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ میری زندگی میں میری تصدیق کے لئے یہ حادثہ آئے گا اور اس وقت کے کروڑ ہا لوگ زندہ ہوں گے جو یہ حادثہ دیکھ لیں گے اور حادثہ ایسا ہوگا کہ اس ملک میں پہلے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں ہوگی۔ پس یہ تعیین کافی ہے کہ وہ قیامت خیز زلزلہ میری الاعراف: ۱۴۴