براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 113

روحانی خزائن جلد ۲۱ ١١٣ براہین احمدیہ حصہ پنجم یہ تو جاہل ہے یا دیوانہ ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالی انہیں خصص براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔ انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق یعنی تیرا میرے نزدیک وہ مقام ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ یہ جواب اسی قسم کا ہے جیسا کہ آدم کی نسبت قرآن شریف میں ہے۔ قال إلى أعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ بلکہ یہی آیتیں بعینہ اگر چہ براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں نہیں مگر دوسری کتابوں میں میری نسبت بھی وحی الہی ہو کر شائع ہو چکی ہیں ۔ تیسری آدم سے مجھے یہ بھی مناسبت ہے کہ آدم توام کے طور پر پیدا ہوا اور میں بھی تو ام پیدا ہوا۔ پہلے لڑکی پیدا ہوئی بعدہ میں۔ اور با ایں ہمہ میں اپنے والد کیلئے خاتم الولد تھا۔ میرے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ اور میں جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا اور آدم کا حوا سے پہلے پیدا ہونا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ سلسلہ دنیا کا مبدء ہے۔ اور میرا اپنی توام ہمشیرہ سے بعد میں پیدا ہونا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ میں دنیا کے سلسلہ کے خاتمہ پر آیا ہوں۔ چنانچہ چھٹے ہزار کے آخر میں میری پیدائش ہے اور قمری حساب کی رو سے اب ساتواں ہزار جاتا ہے۔ اسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے۔ ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا إِنّهم مُغْرقون ۔ یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔ خدا نے نوح کے زمانہ میں ظالموں کو قریباً ایک ہزار سال تک مہلت دی تھی اور اب بھی خیر القرون کی تین صدیوں کو علیحدہ رکھ کر ہزار برس ہی ہو جاتا ہے۔ اس حساب سے اب یہ زمانہ اُس وقت پر آپہنچتا ہے جبکہ نوح کی قوم عذاب سے بلاک کی گئی تھی (۸۷) اور خداتعالیٰ نے مجھے فرمایا۔ اصنع الفلک باعيننا ووحينا۔ ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله يد الله فوق ايديهم یعنی میری آنکھوں کے رو برو اور میرے حکم سے کشتی بنا۔ وہ لوگ جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ نہ تجھ سے بلکہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ یہی بیعت کی کشتی ہے جو انسانوں کی جان اور ایمان بچانے البقرة : ٣١