براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 112

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۱۲ براہین احمدیہ حصہ پنجم مگر اب میں اس سخت دل قوم کا کیا علاج کروں کہ نہ قسم کو مانتے ہیں نہ نشانوں پر ایمان لاتے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کی ہدایتوں پر غور کرتے ہیں۔ آسمان نے بھی نشان دکھلائے اور زمین نے بھی ۔ مگر ان کی آنکھیں بند ہیں اب نہ معلوم خدا انہیں کیا دکھلائے گا۔ اس جگہ یہ بھی یا درکھنا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسی ہی نہیں رکھا بلکہ ابتدا سے انتہا تک جس قدر انبیاء علیہم السّلام کے نام تھے وہ سب میرے نام رکھ دیئے ہیں۔ چنانچہ براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام آدم رکھا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اردتُ ان استخلف فخلقت آدم دیکھو براہین احمدیہ حصص سابقہ صفحہ۴۹۲ ۔ پھر دوسری جگہ فرماتا ہے سبحان الذى اسرى بعبده ليلا خلق ادم فاکرمہ ۔ دیکھو براہین احمدیہ حصص سابقہ صفحه ۵۰۴ دونوں فقروں کے معنے یہ ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کیا یعنی اس عاجز کو ۔ پھر فرمایا پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو ایک ہی رات میں تمام سیر کرا دیا۔ پیدا کیا اس آدم کو ۔ پھر اس کو بزرگی دی۔ ایک ہی رات میں سیر کرانے سے مقصد یہ ہے کہ اس کی تمام تکمیل ایک ہی رات میں کر دی اور صرف چار پہر میں اس کے سلوک کو کمال تک پہنچایا اور خدا نے جو میرا نام آدم رکھا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس (۸۶) زمانہ میں عام طور پر بنی آدم کی روحانیت پر موت آگئی تھی پس خدا نے نئی زندگی کے سلسلہ کا مجھے آدم ٹھہرایا اور اس مختصر فقرہ میں یہ پیشگوئی پوشیدہ ہے کہ جیسا کہ آدم کی نسل تمام دنیا میں پھیل گئی ایسا ہی میری یہ روحانی نسل اور نیز ظاہری نسل بھی تمام دنیا میں پھیلے گی ۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ فرشتوں نے آدم کے خلیفہ بنانے پر اعتراض کیا اور خدا تعالیٰ نے اس اعتراض کو رد کر کے کہا کہ آدم کے حالات جو مجھے معلوم ہیں وہ تمہیں معلوم نہیں یہی واقعہ میرے پر صادق آتا ہے کیونکہ براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں یہ وحی الہی درج ہے کہ لوگ میری نسبت ایسے ہی اعتراض کریں گے جیسے کہ آدم علیہ السلام پر کئے گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وان يتخذونك إلا هزوا أهذا الذي بعث الله جاهل او مجنون ۔ یعنی تجھے لوگ ہنسی کی جگہ بنالیں گے اور کہیں گے کہ کیا یہی شخص خدا نے مبعوث فرمایا ہے