براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 85

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۸۵ براہین احمدیہ حصہ پنجم خدا کی طرف سے وہ نعمت ہے کہ جو پھر تجھ سے چھینی نہیں جائے گی ۔ اور پھر ایک اور پیشگوئی کر کے فرمایا کہ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ یعنی میاں عبد الرحمن اور موادی عبد اللطیف جو کابل میں سنگسار کئے گئے ۔ اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا۔ پر ان دونوں کا ذبح کیا جانا آخر تمہارے لئے بہتری کا پھل لائے گا۔ اور ان واقعات شہادت کے مصالح جو خدا کو معلوم ہیں وہ تمہیں معلوم نہیں۔ یعنی خدا جانتا ہے کہ ان موتوں سے اس ملک کابل میں کیا کیا بہتری پیدا ہوگی ۔ اس سے پہلی پیشگوئی اُس استفتاء کے بارے میں ہے جو مولوی محمد حسین کے ہاتھ سے اور مولوی نذیر حسین کے فتویٰ لکھنے سے ظہور میں آیا جس سے ایک دنیا میں شور اٹھا اور سب نے ہمارا تعلق چھوڑ دیا اور کافر اور بے ایمان اور دقبال کہنا موجب ثواب سمجھا۔ اُس کے ساتھ جو یہ وعدہ ہے کہ خدا اس کے بعد بہت پیار کرے گا یہ رجوع خلق اللہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خدا کا پیار مخلوق کے پیار کو چاہتا ہے۔ اور خدا کی رضا مندی تقاضا کرتی ہے کہ دنیا کے سعید لوگ بھی راضی ہو جائیں۔ اور مؤخر الذکر پیشگوئی میں جو دو بکریوں کے ذبح کئے جانے کا ذکر ہے یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو سرزمین کا بل میں ظہور میں آیا یعنی ہماری جماعت میں سے ایک شخص عبد الرحمن نام جو جوان صالح تھا اور دوسرے مولوی عبد اللطیف صاحب جو نہایت بزرگوار آدمی تھے امیر کابل کے حکم سے سنگسار کئے گئے محض اس الزام سے کہ کیوں وہ دونوں ہماری جماعت میں داخل ہو گئے اور اس واقعہ کو قریباً دو برس گزر چکے ہیں ۔ اب یہ مقام انصاف کی آنکھ سے دیکھنے کا ہے کہ کیونکر یہ واقعہ شہادت اخویم مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم اور شیخ عبد الرحمن صاحب مرحوم ایک ایسا (۶۷) دور از قیاس واقعہ تھا کہ جب تک وقوع میں نہ آ گیا ہمارے ذہن کا اس طرف التفات نہ ہوا کہ در حقیقت وحی الہی کے یہ معنے ہیں کہ دو ہمارے صادق مرید بیچ بیچ ذبح کئے جائیں گے بلکہ اس حالت کو مستعد سمجھ کر محض اجتہاد کے طور پر تاویل کی طرف میلان ہوتا رہا۔ اور تاویلی مصداق