براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 84
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۸۴ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۲۴ کا ارادہ کریں۔ یہ پیشگوئی اُن مقدمات کی نسبت ہے جو ڈاکٹر مارٹن کلارک اور کرم دین وغیرہ کی طرف سے بصیغہ فوجداری میرے پر ہوئے تھے اور لیکھرام کے قتل ہونے کے وقت بھی میرے پھنسانے کیلئے کوشش کی گئی تھی اور ان مقدمات میں ارادہ کیا گیا تھا کہ مجھے پھانسی دی جائے یا قید میں ڈالا جائے ۔ سوخدائے تعالیٰ اس پیشگوئی میں فرماتا ہے کہ میں اُن کو اُن کے ارادوں میں نامراد رکھوں گا اور ان کے حملوں سے میں تجھے ضرور بچاؤں گا ، چنانچہ چو نہیں برس کے بعد وہ سب پیشگوئیاں پوری ہوگئیں ۔ اور پھر فرماتا ہے کہ اس مکر کرنے والے کے مکر کو یاد کر جو تجھے کا فرٹھہرائے گا۔ اور تیرے دعوے سے منکر ہوگا وہ ایک اپنے رفیق سے استفتاء پر فتویٰ لے گا تا عوام کو اس سے افروختہ کرے۔ ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب ہے کے جن سے وہ فتوی لکھا تھا ۔ لکھنے میں اگر چہ ایک ہاتھ کا کام ہے مگر دوسرا بھی اس کی مدد دیتا ہے۔ اور ہلاک ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ اپنے (11) استفتاء کی غرض سے نامراد رہے گا۔ اور پھر فرماتا ہے کہ وہ بھی ہلاک ہو گیا یعنی اُس نے گناہ شدید کا ارتکاب کیا جو دراصل ہلاکت ہے۔ اس لئے دنیا کی طرف اُس کا رُخ کر دیا گیا اور حلاوت ایمان اُس سے جاتی رہی۔ اُس کو مناسب نہ تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے یعنی اگر کچھ شک تھا تو پوشیدہ طور پر رفع کرتا اور ادب سے رفع کرتا نہ یہ کہ دشمن بن کر میدان میں نکلتا ۔ اور پھر فرمایا کہ جو تجھے تکلیف پہنچے گی وہ خدا کی طرف سے ہے۔ یعنی اگر خدا نہ چاہتا تو یہ فتنہ بر پا کرنا اس کی مجال نہ تھا۔ اور پھر فرمایا کہ اُس وقت دنیا میں بڑا شور اٹھے گا اور بڑا فتنہ ہوگا پس تجھے کو چاہیے کہ صبر کرے جیسا کہ اولوالعزم پیغمبر صبر کرتے رہے ۔ مگر یا درکھ کہ یہ فتنہ اس شخص کی طرف سے نہیں ہوگا بلکہ خدائے تعالی کی طرف سے ہوگا تا کہ وہ تجھ سے زیادہ پیار کرے۔ اور یہ پیار جلد اس جگہ ابی لہب کے معنے ہیں۔ آگ بھڑ کنے کا باپ یعنی اس ملک میں جو تکفیر کی آگ بھڑ کے گی در اصل باپ اس کا وہ ہوگا جس نے یہ استفتاء لکھا۔ منہ