براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 727 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 727

۔عقل پر الہام کا یہ احسان ہے کہ اُس کی وجہ سے ہر ناقص تصور پختہ ہو گیا۔اُس نے تو گمان کیا اور اس نے کھلم کھلا ظاہر کر دیا اُس نے خفیہ کہا اور اُس نے راز کو ظاہر کر دیا۔اُس نے گرا دیا اور اِس نے ہاتھ میں دیا۔اُس نے صرف لالچ دیا اور اِس نے پورا کر دیا۔وہ چیز جس نے ہمارے دل کے ہر ُبت کو توڑ دیا وہ خدائے لاثانی کی وحی ہی تو ہے۔وہ جس نے ہمیں معشوق کا چہرہ دکھا دیا وہ خدائے مہربان کا الہام ہی تو ہے۔وہ جس نے دلی یقین کا جام ہمیں دیا وہ اُس محبوب کی گفتار ہی تو ہے۔دلبر کا وصل اور اُس کے جامِ شراب کا نشہ سب اُس کے الہام سے حاصل ہوئے۔ہر مقصد کا اصل اُس یار کا وصل ہے اور جو اُس اصل سے غافل ہے وہ کچاہے۔اُس کی نعمتوں کے سوا ہم سب تہی دست ہیں اور اس کی عنایتوں کے بغیر ہم سب برباد ہیں صفحہ ۳۸۷۔کمزوروں میں یہ طاقت کب ہے کہ وہ خود ہی اُس بے نشان وجود کا پتہ لگا لیں۔اندھوں کی عقل تو خود ہی رستہ چلنے کے لئے رہنما ڈھونڈتی ہے تو اندھوں کی عقل سے رہبری طلب نہ کر۔ہماری عقل تو صرف رونے دھونے کے لئے ہے اور جہالت کے دکھ کا دفعیہ خدا کی طرف سے ہے۔بچے کی عقل تو صرف یہ ہے کہ زار زار روئے مگر دودھ تو سوائے ماں کے ہرگز نہیں مل سکتا صفحہ ۳۹۲۔اگر تو نے کوئی بات نہیں کہی تو کسی کو تجھ سے کوئی واسطہ نہیں لیکن اگر کہی ہے تو اس کی دلیل لانی پڑے گی صفحہ ۴۵۲۔کون عاشق بنا کہ محبوب نے اس کے حال پر توجہ نہ کی ہو، حضرت درد ہی نہیں ورنہ طبیب تو موجود ہے صفحہ ۴۵۷۔بد خواہ کی آنکھ کہ خدا کرے پھوٹ جائے اسے ہنر بھی عیب دکھائی دیتا ہے صفحہ ۵۴۰۔عشق ہی ہے جو ذلت کی خاک پر آدمی کو تڑپاتا ہے عشق ہی ہے جو جلتی ہوئی آگ پر اسے بٹھاتا ہے