براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 723
۔اندھیری رات ہے، جنگل ہے اور درندوں کا ڈر اے ناداں پھر تو کیوں غفلت کی نیند ہو سو رہا ہے۔اٹھ اور اپنے حال پر نظر کر راستہ کے خطرات دیکھ اور آہیں بھر۔اٹھ اور اپنے نفس سے ہی یہ بات پوچھ کہ وہ معرفت کے کیسے کیسے درجے مانگتا ہے۔آیا وہ حجاب دور ہونے کے لئے تڑپ رہا ہے یا ہر بات میں وہ قیاس کو کافی سمجھتا ہے۔خدا نے اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ فرمایا ہے۔اٹھ اور اپنے نفس کی پیاس کی حقیقت معلوم کر۔تو لاکھوں غلطیوں میں گرفتار ہے اور ہر غلطی اژدہوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔یہ اندھا پن اور نابینائی عجیب طرح کی ہے کہ تو اس کچی بات سے بھی بے خبر ہے۔بات سچی ہے غلط نہیں ہے غلطی یہ ہے کہ تو بات کو نہیں سمجھتا صفحہ ۳۷۵۔مخفی اور نہاں در نہاں بھید خدا کی وحی کے سوا کون کھول سکتا ہے۔اس مخفی ذات کا بھید کون ظاہر کر سکتا ہے سوائے اس خدا کے جو راز دان ہے۔انسان ایک مشتِ خاک ہے جو راستے میں گرا ہوا ہے وہ خدا کی جناب سے ایک آندھی مانگتا ہے۔تو ابھی میری یہ بات نہیں سمجھتا۔میں تیرے دل میں کیوں کر اتر جاؤں۔افسوس کہ ہمارا دل غم کے مارے گداز ہو گیا مگر ہمارے درد کو مخاطب نے پھر بھی نہیں پہچانا۔اے یار کے مکھڑے کے سورج جلدی نکل کہ اندھیری رات کی وجہ سے دل غمگین ہے۔مذہبوں کے معاملہ میں ایک نظر ہی کافی ہے کاش کوئی خدا کے خوف کے ساتھ ان کو دیکھتا۔کفر بھی ظاہر ہے اور ایمان بھی یہ بات میں نے تجھے ظاہر بھی بتائی اور پوشیدہ بھی۔خدا کا خوف ترک کر دینا اور ُبرے عمل کرنا۔یہی دو چیزیں سیاہ دلی کا باعث ہیں۔ورنہ محبوب کا چہرہ تو چھپا ہوا نہیں ہے اے ُمردہ دل جو بھی پردہ ہے وہ خود تیری طرف سے ہے۔یار تو شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے محض تیری بیہودگی نے بات لمبی کر دی ہے۔جو یک دم اپنی خودی سے الگ ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا کام خود سنبھال لیتا ہے۔وہ محبوب تو حی وقیوم اور قادر ہے۔اے ذلیل انسان تو اسے مردہ نہ سمجھ