براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 711
۔اور نہ ہم سے پوچھے اور نہ آپ جانے اور نہ کینہ وری ترک کرے۔تو وہ انسان نہیں بلکہ ذلیل کیڑا ہے اور خدا کے دربار سے راندہ ہوا ہے۔اسے خدا سے کچھ سروکار نہیں اس لئے ضرور ہے کہ خدا کی لعنت اس پر برسے۔مومنوں کی حجت اس پر تمام ہو گئی۔ہماری بات مضبوط اور اس کا سارا عذر کمزور ہو گیا۔اے نفسانی خواہشوں پر پل پڑنے والو! موت کو جو لذتوں کو تباہ کر دیتی ہے اکثر یاد کیا کرو۔یہ فانی مقام گزر جانے والا ہے دو دن رہنے والی سرائے سے اپنا دل کیا لگاتا ہے۔اپنی پہلی عمر کو دیکھ کہ کہاں چلی گئی وہ تو ضائع ہو گئی مگر دیکھ تیرے پاس سے کیا کیا چلا گیا۔عمر کا ایک حصہ تو بچپن میں گزر گیا اور ایک حصہ تو نے سرکشی میں ضائع کر دیا۔عمدہ حصے چلے گئے اب پس خوردہ باقی رہ گیا۔دشمن خوش ہیں اور دوست غمگین ہیں۔تیری طرح کے سینکڑوں متکبروں کو زمین کھا گئی۔مگر ابھی تیرا سر دشمنی کی وجہ سے آسمان پر ہے۔اس گزر جانے والے جہان کی روش سے یہ بات سن کہ کس طرح وہ زبان حال سے بیان کرتا ہے۔کہ یہ جہان کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتا اور جب تک اپنے سے جدا نہ کر لے اسے صبر نہیں آتا صفحہ ۳۶۴۔اگر تیرے کان ہوں تو سینکڑوں آہیں سنے گا۔اس مردہ دل سے جس کا اندرونہ تباہ ہو چکا ہے۔کہ میں نے کیوں خدا سے منہ موڑا اور اس چیز سے دل لگایا جو مجھ سے جدا ہو گئی۔اس راستے کی قدر ُمردوں سے پوچھ۔بہت سی قبریں ہیں جو حسرتوں سے بھری پڑی ہیں۔مناسب یہی ہے کہ تو ایسی جگہ سے تقویٰ اور پرہیز گاری کے ساتھ کوچ کر جائے۔تجھے جو چیزیں یار سے الگ کرتی ہیں تو ان سب سے علیحدہ ہو جا۔آخر اے بدکردار ! تو کب تک سرکشی کرے گا۔کیا کوئی دلدار سے بھی تعلق توڑا کرتا ہے۔غیروں کی طرف سے اپنا دل پھیر لے اور ہر دم محبوب کی تلاش میں رہ۔اُسی کی طرف اپنا منہ کر کیونکہ محبوب کا چہرہ ہی قابل دید ہے اور سب چہرے اُس دلدار پر قربان ہیں۔تو اپنی خودی سے باہر آکہ یہی لقا ہے اور اس میں محو ہو جا کہ یہی بقا ہے