براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 710
۔الہام کا نور باد صبا کی طرح غیب سے اس کے پاس خوشبوئیں لاتا ہے۔وہ مخفی باتوں کا ملہم ہو جاتا ہے یعنی ان رازوں کا جو صرف خدا کا خاصہ ہیں۔تا کہ اصل حقیقت کو نمایاں کر کے دکھا ئے اور تا کہ انکار کا سر کچل کر رکھ دے۔اس طرح وہ کریم پاک اور قادر خدا اس شخص کو روشن آفتاب کی طرح منور کر دیتا ہے۔مخلوق کی آنکھوں کو اس وجہ سے بینا بناتا ہے اور ان کے کانوں کو اس کے ذریعہ شنوا کر دیتا ہے۔جو شخص اس کے پاس صدق وصفا کے ساتھ آتا ہے وہ خد اکے حکم سے شفا پاتا ہے۔ستودہ صفات پیغمبر نے غیب دان علیم خدا سے علم پاکر کہا ہے۔کہ ہر صدی کے سر پر ایسا شخص ظاہر ہوتا رہے گاجو اس کام (تجدید دین)کے لایق ہوگا۔تا کہ مذہب بدعات سے پاک ہو جائے اور مخلوق اس سے برکتیں حاصل کرے۔خلاصہ کلا م یہ کہ اولیائے کرام کی ذات مذہب اسلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ُتو یہ نہ کہہ کہ یہ بات بیہودہ لغو اور غلط ہے۔ُ تو مطالبہ کر۔اس کا ثبوت ہمارے ذمہ ہے صفحہ ۳۶۳۔اے شخص ُتو ایک ذلیل وخوار ذرّے کی طرح ہے تیرے مقابل پر وہ خدا کس طرح عاجز ہو سکتا ہے۔یہ سب سچ ہے مبالغہ نہیں ہے۔اگر تجھے یقین نہیں تو امتحان کر لے۔میں طالبوں سے غلط وعدہ نہیں کرتا اگر اس کا پتہ نہ بتاؤں تو جھوٹا ہوں۔میں خود اُس نشان کو پورا کرنے کو پیدا ہوا ہوں۔دوسرے تمام غموں اور فکروں سے آزاد ہوں۔چونکہ یہ سعادت ہماری قسمت میں تھی اس لئے رفتہ رفتہ ہماری باری آگئی۔میں مصفّٰی پانی (کے چشمے) پر کھڑا پکار رہا ہوں جس طرح ماں اپنے بچوں کے پیچھے دوڑتی ہو۔تا کہ شاید جنگل کے پیاسے اس شورو پکار سے میرے پاس آجائیں۔لیکن عاجزی اور صدق وصفا شرط ہے نیز انکسار اور خوف خدا کے ساتھ آنا۔غریبی اور دلی خاکساری کے ساتھ ڈھونڈنا نیز اخلاص اور کامل اطاعت کے ساتھ تلاش کرنا۔اور اگر اب بھی کوئی روگردانی کرتا ہے اور انصاف کا راستہ چھوڑ کر غلط راہ اختیار کرتا ہے