براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 703
۔سونے، چاندی اور مال سے دھوکا نہ کھاکیونکہ آخر ہر مال پر زوال آجاتا ہے۔نہ ہم کچھ ساتھ لائے اور نہ ساتھ لے جائیں گے خالی ہاتھ آئے تھے اور خالی ہاتھ چلے جائیں گے۔خبردار ! دوست کی طرف سے منہ نہ موڑ۔سارا جہان دوست کے ایک بال کی برابری نہیں کر سکتا۔وہ خدا جس کی راہ میں ہماری جان قربان ہے اس کا راستہ تجھے مصطفی ؐ کی پیروی کے بغیر نہیں مل سکتا۔ابوالقاسم وہ آفتاب عالمتاب ہے جس کی وجہ سے زمین وزماں روشن ہو گئے۔انسان فرشتہ سے بہتر کیونکر ثابت ہوتا۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کا انسان پیدا نہ ہوتا۔کیا تجھے خدا تعالیٰ سے شرم نہیں آتی۔عقلمند اور معزز ہونے کے باوجود۔پھر بھی تو اس رسول کا منکر ہے جس سے خود عقل کی آنکھیں نور حاصل کرتی ہیں۔تجھے سہوو غفلت سے خلاصی حاصل نہیں ہوئی اور نہ تو انسانی خصائل سے آزاد ہے۔تجھ سے رب العباد کا کام نہیں ہو سکتا اُس سے توجہل وعناد کے باعث جھگڑا نہ کر صفحہ ۲۲۹۔خدا کو جمادات کی طرح ناقص اور گونگا خیال نہ کر اور اُس کے کمال کو بھول مت۔ُتو تو آپ ناقص ہے اور دنِیُّ الصّفات ہے اس لئے پاک خدا کی پاک ذات پر ناقص ہونے کا عیب مت لگا۔بے ہودہ خیالات نے تجھے برباد کر دیااور خود اپنے پیروں سے چل کر تو کنوئیں میں جا پڑا۔تیرے خیالات رات کی طرح تاریک وتار ہیں جس پر تیرے کینے کی وجہ سے سو پردے پڑ گئے ہیں۔چوروں کی طرح اپنے دل کو رات ہونے پر خوش نہ کر بلکہ ڈر اور سزا کے دن کو یاد کر۔اگر تو پرندوں کی طرح ہوا میں اڑے اور اسی طرح پانیوں پر چلے۔اور آگ میں سے بھی سلامت نکل آئے اور جادو سے مٹی کو سونابھی بنا دے۔پھر بھی یہ ممکن نہیں کہ تو حق کو تباہ کر سکے۔پس دیوانوں اور مدہوشوں کی طرح بکواس نہ کر۔جس کو خدا نے چمکدار سورج بنایا ہے وہ تیرے ہاتھوں حقیر مٹی نہیں بن سکتا۔اے ذلیل انسان اپنے دل کو بے فائدہ نہ جلا بڑھنے والی چیز تیری چالاکیوں سے گھٹ نہیں سکتی۔موسم بہار ہے اور باد صبا چمن میں گلاب اور چنبیلی کے ساتھ ناز کر رہی ہے