براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 702
۔ایسا دل شاذ ونادر ہی کسی سینہ میں ہوتا ہے۔جو غرور اور کینہ سے پاک ہو۔اصل بات یہ ہے کہ حقیقت شناس لوگ کم ہیں۔اگرچہ شکل کے لحاظ سے سب آدمی ہی ہیں۔اے وہ جو کنوئیں میں پڑا ہوا ہے اور عقل اور دین دونوں کھو بیٹھا ہے۔خبردار ہو۔غیر محدود) خدا(کو محدود) عقل(کے ذریعہ تلاش نہ کر اور مصفّٰی نور کا کام دھوئیں سے نہ لے۔جو بات کہ عجزو نیاز کے ساتھ ڈھونڈنی چاہیے۔اسے تکبر، خود بینی اور فخر کے ساتھ نہ ڈھونڈ۔واہ وا ہ سلوک کا یہ اصول کیسا عمدہ ہے جو مثنوی میں مولوی رومی کی یاد گار ہے۔عقلمندی کمزوری اور عاجزی کی ضد ہے تو عقلمندی کو چھوڑ اور عاجزی اختیار کر۔جس طرح چھوٹے بچے کو ماں دن بھر اپنی گود میں لیے پھرتی ہے صفحہ ۲۲۳۔خدا کا پاک کلام عرفان کے سو جام دیتا ہے جو اس شراب سے بے خبر ہے وہ کہاں ایمان کا مزہ جانتا ہے۔اُسے آنکھ نہیں کہنا چاہیے جو ساری عمر اندھی رہی ہو نہ وہ کان، کان ہے جس نے کبھی محبوب کی بات نہ سنی ہو صفحہ ۲۲۸۔اگر کوئی چیز اپنی خوبی کی وجہ سے اعلیٰ ہو تو جو بھی اُس پر الزام لگائے گا تو بیوقوف ہی کہلائے گا۔جب تو کسی نیک آدمی پر بدگمانی کرے گا تو لوگ سمجھ لیں گے کہ تو خود بد اصل ہے۔جب تو روشن موتی کو دھندلا کہے گا تو اس سے تیری آنکھوں کا دھندلا پن ظاہر ہو گا۔گندی، بے معنی اور بے ہودہ باتیں خبیثوں کی خباثت کو ہی ظاہر کرتی ہیں۔تم سوائے جھوٹ کے اور کچھ کہنا نہیں جانتے مگر سچ کے سامنے جھوٹ فروغ نہیں پا سکتا۔تم خدائے بے چگوں کو یاد نہیں کرتے اور یہ ذلیل دنیا تم کو پسند آگئی ہے۔کوئی اس دنیا سے کیوں دل لگائے جبکہ اچانک ایک دن اس سرائے سے کوچ کرنا ہے۔اس گھر کا انجام رنج ودرد ہے۔مرد لوگ اس کے داؤ میں نہیں آتے۔اس کیچڑ سے کمینوں کی طرح دل کو آلودہ نہ کر کہ اس کے ٹھہرنے کا زمانہ دیر تک نہیں رہتا۔جزا کا دن آرہا ہے۔پس تو دنیا کی زندگی پر ناز نہ کر