براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 692 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 692

صفحہ ۱۲۷۔غیر کی مداخلت سے اُن کا دل پاک ہے دوست نے اُن کے دل وجان میں اپنا ٹھکانا بنا لیا ہے۔انہوں نے اپنے دین ودنیا دوست کے لئے وقف کر دیئے اور اُس کے دروازہ پر خاک کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔اُن کا شیشہ ُچور ُچور ہو گیا اور اُن کے سینہ سے دلبر کی خوشبو نکل رہی ہے۔یار کی تجلی نے ان کی ہستی کا نقش دھوڈالا آخر دل کے گریبان سے دلدار نے سرنکالا۔اگر اپنے اندرونی شعلوں کو ظاہر کر دیں تو مجنوں کی قبر سے دُھواں نکلنے لگے۔انہیں اپنے سر پیر کا ہوش نہیں معشوق کے خیال میں خاک پر سر رکھے ہوئے ہیں۔ہر شخص کو اپنے کام سے کام ہوتا ہے مگر عاشقوں کو صرف دلدار سے غرض ہوتی ہے۔ہر شخص کو اپنی عزت کا خیال رہتا ہے مگر اُن کا سب فکر یار کی عزت کے لئے ہے۔تو نے اپنا سر دین کی طرف سے پھیر لیا ہے تیری زندگی کا ماحصل صرف عداوت ہے۔تُو تو جھگڑے اور فساد میں پڑا ہوا ہے اور انصاف اور عقل کو جواب دے رکھا ہے۔فخر اور تکبر اور ریا سے اکڑ رہا ہے اور دینداری کی حد سے باہر نکل گیا ہے۔چونکہ خدا نے تجھے دل کا نور نہیں دیا اس لئے تیرے عقل وہوش سب الٹے ہو گئے۔تو کفربکنے کو عبادت سمجھتا ہے اور بدکاری کو ثواب جانتا ہے۔تیری آنکھ کے سامنے سَو پردے پڑے ہیں پھر پوچھتا ہے کہ سورج کہاں ہے۔پردہ اٹھاتا کہ تجھے سامنے کی چیز نظر آئے تو نے اپنے اندھے پن سے ہمارا دل جلا دیا۔منعم اور مَنّان خدا سے تو نے سر پھیر لیا اے بیوقوف کیا اسی کا نام شکر نعمت ہے؟۔اس ذلیل سرائے سے دل لگانا آخر کار آدمی کو دین سے خارج کر دیتا ہے۔خدا کے کوچہ کو چھوڑ دینا وفاداری سے بعید ہے غیر سے دل نہ لگا کیونکہ خدا بڑا غیرت مند ہے۔تو جان بوجھ کر اُس سے سرکشی کرتا ہے ہائے افسوس! تو اپنے اوپر کیسا ظلم کر رہا ہے۔خدا کے سوا جو بھی تیرے دل میں ہے اے کمزور ایمان والے وہی تو تیرا بُت ہے