براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 686 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 686

۔میرا مقصود اور میری خواہش خدمت خلق ہے یہی میرا کام ہے یہی میری ذمہ داری ہے یہی میراطریق ہے۔میں نے اپنی خواہش سے پند ونصیحت کے کوچہ میں قدم نہیں رکھا بلکہ مخلوق کی ہمدردی زبردستی مجھے کھینچے لئے جا رہی ہے صفحہ ۷۴۔صرف زبان سے خلق خدا کے غم کھانے کا کیا فائدہ اگر اس کے لئے سو جانیں بھی فدا کروں تب بھی معذرت کرتا ہوں۔جب دنیا کی تاریکی کو دیکھتا ہوں تو) چاہتا ہوں کہ(خدا اس پر میری پچھلی رات کی دعاؤں ) کی قبولیت(نازل کرے صفحہ ۷۵۔ہم تو خاکسار ہیں اور فروتنی سے بات کرتے ہیں۔خدا شاہد ہے کہ ہمیں کسی سے عداوت نہیں۔ہم فضول اس مقصد کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے بلکہ تجلی حسن ہمیں محبوب کی طرف کھینچے لیے جا رہی ہے صفحہ ۸۳۔اے سچائی اور حق کو ڈھونڈنے والے ذرا غور اور فکر سے اس کتاب کو پڑھ۔اگر میری کتاب پر تیری ایک نظر پڑ جائے تو ُتو جان لے گا کہ جنت کا راستہ یہی ہے۔مگر عدل وانصاف شرط ہے کیونکہ انصاف عقلمندی کی کنجی ہے۔دو چیزیں دنیا اور دین کی پاسبان ہیں ایک تو روشن دل دوسرے دوربین آنکھ۔وہ شخص جو عقل اور انصاف رکھتا ہے وہ سوائے سچائی اور راستی کے اور کچھ نہیں چاہتا۔وہ اس چیز سے انکار نہیں کرتا جو پاک اور سچی ہے نہ اس بات سے منہ موڑتا ہے جو درست اور بجا ہے۔جب وہ انصاف کی رو سے بات کو دیکھتا ہے تو وہ ناحق ہٹ دھرمی نہیں کرتا صفحہ ۸۴۔ہوشیار!اے وہ شخص جو خدا سے نجات چاہتا ہے تو نجات کے محل میں راستبازی کے دروازہ سے آ۔حق کے ساتھ رہ اور حق کو ہی دل میں بٹھا۔بدباطنوں کی طرح جھوٹ سے دل نہ لگا۔ہرگز کسی بدشکل کا عاشق نہ ہو خواہ زمانہ سے حسن نابود بھی ہو جائے